’’میں صرف غسل کرنے کے لیے گھر جاتا ہوں،‘‘ مرزا محمد خان تھوڑا ترش لہجہ میں کہتے ہیں۔ وہ تراگ بل میں ’خان ٹی اسٹال‘ کے اندر بیٹھے ہیں۔ گریز وادی سے سرینگر کی طرف جانے والے راستہ میں یہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرنے والا ایک مقام ہے۔ کشمیر کی بہت کم آبادی والے اس علاقہ میں اسٹال (دکان) اور اس کی ہورڈنگ کو نظر انداز کر پانا بہت مشکل ہے۔
’’ہمیں چار دنوں میں صرف ۵۰۰ لیٹر ہی پانی مل پاتا ہے،‘‘ اسٹال کے ۳۲ سالہ مالک مرزا بتاتے ہیں۔ ’’اتنے ہی پانی سے ہمیں چائے بنانی ہے، برتن دھونے ہیں اور باقی دوسرے ضروری کام کرنے ہیں۔ میں یہاں غسل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، کیوں کہ اس میں ۳۰-۲۰ لیٹر پانی برباد ہو جائے گا۔ یہاں ایک کپ پانی بھی بیش قیمتی ہے۔‘‘
تراگ بل میں، جس کے عقب میں رازدان پہاڑ ہے، مرزا اس اسٹال کو گزشتہ ۱۲ برسوں سے چلا رہے ہیں۔ چائے کے علاوہ وہ سیاحوں کو کافی، میگی نوڈلز اور دیگر ہلکے پھلکے اسنیکس بھی بیچتے ہیں۔ ’’میں اسے اپنا دوسرا گھر کہتا ہوں، کیوں کہ میں ایک ہفتہ میں پانچ دن – یعنی بدھ سے اتوار تک یہیں رہتا ہوں۔ پیر کے روز میں اپنے گھر چلا جاتا ہوں، کیوں کہ کام کا دن ہونے کی وجہ سے اس روز سیاحوں کی تعداد بہت کم رہتی ہے،‘‘ مرزا بتاتے ہیں۔








