بحرِ عرب ایک بار پھر خشکی کی جانب بڑھ رہا ہے اور پالگھر ضلع میں ڈہانو کی تنگ کھاڑی (کِریک) کے لہردار ریت کی پٹیوں اور اتھلے نالوں کو نگل رہا ہے۔ امیتا تانڈیل بمشکل ہی سو پاتی ہیں۔ وہ مدّ و جزر کے وقت کا انتظار کرتی ہیں اور خود کو بیدار کرنے کے لیے اکثر الارم لگاتی ہیں۔ پیشانی پر بیٹری سے جلنے والی ہیڈ لائٹ باندھے اور کندھے پر ۱۰ سے ۱۵ کلوگرام کا جال لٹکائے، وہ نصف شب کی تاریکی میں گھر سے نکل پڑتی ہیں۔ کِریک کی جانب تقریباً ۴۰۰ میٹر آگے ایک اور خاتون ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ ’’یہ برسوں کا تجربہ ہے جو ہمیں چاند کے مراحل کو پڑھنا سکھاتا ہے۔ یہی ہمیں مدّ و جزر کے اوقات بتاتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
’’ہماری برادری میں بچے اپنے والدین کو مچھلی پکڑتے دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں۔ جب میں تقریباً ۱۵ سال کی تھی تو میرے والد مجھے اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے مدّ و جزر اور چاند کے مراحل کی جانکاری دی اور کریک کے اس مقام سے واقف کرایا جہاں مچھلیاں آتی جاتی ہیں۔‘‘ ۶۰ سالہ امیتا نے اپنے والد ہی کی طرح مدّ و جزر کو سمجھتے ہوئے تقریباً پانچ دہائیاں گزاری ہیں۔
تنگ کھاڑی کے کنارے پہنچنے کے بعد وہ اور دوسری خاتون ۲۰ ضرب ۱۰۰ فٹ کے الجھے ہوئے جال کو سلجھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ جلد ہی وہ جال کے دونوں سروں کو پکڑ کر سمندر میں اتریں گی، ایک دوسرے سے تقریباً ۳۰ فٹ کے فاصلہ پر چلتے ہوئے جال کو پانی میں ڈبوتے اور گھسیٹتے ہوئے اس میں پھنسے شکار کو دیکھنے کے بجائے محسوس کریں گی۔
’’رات کے وقت آپ یہ نہیں دیکھ سکتے کہ آپ کے پیروں کے نیچے کیا ہے۔ آمچیا کپالالا بیٹری آستے، فقط لائٹچیا سگنل ور چالتے [ہم اپنے ماتھے پر بیٹری والے لیمپ لگاتے ہیں، انہی لیمپوں کی ٹمٹماتی روشنی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھتے اور ایک دوسرے سے تال میل بٹھاتے ہیں]۔ یہاں تیز لہریں اٹھا کرتی ہیں اور محض ایک لغزش آپ کا توازن بگاڑ سکتی ہے۔ یہاں ہمیشہ خطرہ بنا رہتا ہے۔ کبھی کبھی ہم گردن تک پانی میں بھی کام جاری رکھتے ہیں کیونکہ اگر بغیر مچھلی کے واپس لوٹے، تو اس دن ہمیں کوئی رقم نہیں ملے گی۔‘‘ امیتا اس وقت تک پانی کے اندر رہتی ہیں جب تک کہ ان کے ہاتھوں میں جال کا وزن کافی امید افزا نہ لگنے لگے۔ کبھی کبھی اس میں چار گھنٹے سے زیادہ کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔
ان جیسے بغیر کشتی والے دیگر مرد اور خواتین بھی اس تقریباً ۲۰ کلومیٹر طویل کریک میں ہاتھ سے مچھلی پکڑنے جاتے ہیں۔ یہ کریک ڈہانو تعلقہ کے گاؤں ورور سے محض چند میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ بین مدّ و جزری (انٹرٹائیڈل) علاقے کا حصہ ہے، جو جزر کے دوران کھل جاتا ہے اور جب سمندر کی لہریں واپس آتی ہیں تو زیرِ آب آ جاتا ہے۔ ’’اگر میں سمندر میں نہ جاؤں، تو ہم کھائیں گے کیا؟‘‘ امیتا سوال کرتی ہیں۔




















