ساڑھے پانچ دہائیوں تک سنگت رام کے لیے زندگی اور موت کے درمیان بال برابر کا فاصلہ ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے انگوٹھے کے ناخن کو اپنی شہادت کی انگلی سے چھو کر اس فاصلہ کے بارے میں سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اگر وہ بال کی چوڑائی کے برابر بھی توازن کھو دے تو آپ ڈوب جائیں گے۔‘‘ بیاس کی تند رو، برفیلے پانیوں سے گزرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں تھی۔ ہلتی اور ہوا بھری بیلوں کی کھال پر تو یقینی طور پر نہیں، جو صدیوں سے یہاں ندیوں کو پار کرنے کا واحد ذریعہ تھی۔
سَنگت رام، جن کی عمر ۸۹ سال ہے، ہماچل پردیش کی وادی کُلّو کے آخری زندہ تاروؤں (ملاحوں) میں سے ایک ہیں۔ ان کا پیشہ بہت پہلے ختم ہو گیا تھا۔ اس پیشہ کی افادیت موجودہ صدی کے آغاز میں ختم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب مختلف مقامات پر پل اور جھولے (ہاتھ سے کھینچنے والی روپ وے ٹرالیاں) وجود میں آنے لگے تھے۔ اس سے پہلے وہ اپنی’دیریا‘ پر مقامی دیوتاؤں کی مورتیوں سے لے کر بادشاہوں تک، باراتیوں سے لے کر لاشوں تک، فصلوں سے لے کر لکڑیوں تک، سب کچھ ندی کے پار پہنچایا کرتے تھے۔
’دیریا‘ بیل کی کھال ہوتی تھی جس میں ہوا بھر کر بیاس ندی کو عبور کرنے کے لیے بطور کشتی استعمال کیا جاتا تھا۔ دِیریا سے متعلق کہانیاں دو ہزار سال سے بھی پہلے کی ہیں، جب سکندر کی فوج نے ہندوستان میں مزید پیش قدمی سے انکار کرتے ہوئے بغاوت کر دی تھی۔ لوک کہانیوں میں بھی اس وقت مقامی لوگوں کے ذریعہ دیریا چلانے کا ذکر ملتا ہے۔ دوسری طرف یونانیوں کا خیال تھا کہ تند رو ندی کو عبور کرنا ناممکن ہے۔ بیاس سکندر کو پیش آنے والی سب سے مشکل رکاوٹوں میں سے ایک تھی۔ بعض مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ یہ ہندوستان میں اس کے حملوں کی سب سے آخری مشرقی حد تھی، جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔
کئی صدیوں تک ان ملاحوں (جن میں شاید سنگت رام کے آباء و اجداد بھی شامل تھے) کے ذریعہ چلائی جانے والی دیریائیں بیاس کے بائیں اور دائیں کناروں کے درمیان پل کا کام کرتی رہیں۔ یہ ندی اونچی پہاڑی جھیل، بیاس کنڈ سے نکلتی ہے اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں ہریکے کے مقام پر ستلج میں ضم ہونے سے پہلے ۴۷۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔










