’’اگر ہم گودک نہ پیش کریں، تو بہت سے صارفین ہمارے ہوٹل میں کھانا ہی نہ کھائیں۔‘‘ پچھلے آٹھ سالوں سے ۳۷ سالہ چندن اور ان کی ۳۶ سالہ بیوی شَمارو اپنے ہوٹل میں گودک پکا رہے ہیں۔ خمیر شدہ مچھلی اور سبزیوں کو ملا کر بنایا جانے والا گودک تریپورہ کے اُنا کوٹی ضلع میں چکما برادری کا روایتی کھانا ہے۔
چندن اور شمارو کی شادی کے ۲۰ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ جوڑا اپنے گاؤں شانتی نگر میں جیسکا نام کا ہوٹل چلاتا ہے۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں، جیسکا اور شیون جو بالترتیب ۱۲ویں اور ۸ویں جماعت میں پڑھتی ہیں۔
’’گودک ہماری شناخت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے،‘‘ چندن کہتے ہیں۔ چکما برادری کو ریاست میں درج فہرست قبائل کے طور پر درج کیا گیا ہے، جن کی آبادی تازہ ترین مردم شماری کے مطابق تقریباً ۸۰ ہزار ہے۔
اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ان کے ہوٹل میں گودک کی مقبولیت پورے سال برقرار رہتی ہے۔ تین کمروں پر مشتمل جیسکا ہوٹل میں بیک وقت ۴۰ افراد ایک ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں۔ یہاں تھالیوں کی قیمت ۱۰۰ روپے سے ۱۶۰ روپے کے درمیان رہتی ہے۔ روایتی گودک ان تھالیوں کا ایک پسندیدہ جزو ہے۔
’’لوگ اکثر ہم سے گودک کی فرمائش الگ سے کرتے ہیں، تاکہ وہ اسے گھر لے جاسکیں،‘‘ چندن کہتے ہیں۔ وہ اپنے گھر پر بھی گودک پکاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ‘‘یہاں رہائش پذیر تمام برادریوں کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں،‘‘ خواہ وہ ٓحلام، موگ، دیب برما جیسے قبائل ہوں یا شانتی نگر کے بنگالی بولنے والے باشندے۔ ان میں سے بہت سے لوگ کئی دہائیوں قبل بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔
یہ پسندیدہ پکوان سبزیوں اور خمیر شدہ مچھلی سے تیار کیا جاتا ہے۔ خمیر شدہ مچھلی کا مقامی نام برما یا شیدول ہے، اور اس کے لیے پُنٹی (پُنٹیئس سوفورے) اور فائسا (سیپٹی پینا فاسا) نسل کی مچھلیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ چندن کہتے ہیں، ’’ہم فائسا شیدول استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ایک الگ طرح کا تیز ذائقہ ہوتا ہے۔ وہ مقامی بازار سے ۵۰۰ روپے فی کلو کے حساب سے شیدول خریدتے ہیں۔










