وارانسی میں، ووٹنگ کے دن سلمیٰ نے دیکھا کہ پولنگ بوتھ پر صرف دو قطاریں ہیں – ایک مردوں کی اور دوسری عورتوں کی۔ بنگالی ٹولہ کا پولنگ بوتھ مشہور و معروف وشوناتھ مندر کی جانب جاتی ہوئی ایک تنگ گلی میں واقع سرکاری اسکول میں بنایا گیا تھا۔
کوئی اور متبادل نہ دیکھ کر، ۲۵ سال کی اس ٹرانس خاتون کو عورتوں کی قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’آنکھیں بڑی ہوگئی تھیں سب کی۔ مردوں کا تاثر کچھ ایسا تھا کہ دیکھ کر بھی اَن دیکھی کی، جب کہ خواتین مسکرا کر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں، جب میں ان کی قطار کے آخر میں جا کر کھڑی ہو گئی۔‘‘
حالانکہ، سلمیٰ کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ’’میں تو ووٹ دینے گئی تھی۔ میرے پاس ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور میں نے اس کا استعمال اُس بدلاؤ کو لانے کے لیے کیا جس کی ہمیں آج ضرورت ہے۔‘‘
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں ۴۸۰۴۴ ’’تیسری صنف کے ووٹر‘‘ ہیں۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ٹرانس افراد کے طور پر انہیں ووٹر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں اچھی خاصی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ ’پرزمیٹک‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بانی ڈائرکٹر نیتی کا کہنا ہے کہ وارانسی میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً ۳۰۰ ہے، اور ان کے لیے ووٹر آئی ڈی حاصل کرنا بہت مشکل رہا ہے۔ ’’تقریباً ۵۰ ٹرانس افراد کا ہم نے ووٹر آئی ڈی بنوایا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے گھر گھر جا کر تصدیق کرنا اس عمل کا حصہ بنا دیا ہے، حالانکہ برادری کے بہت سے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ان کے گھر جا کر ان کے جینڈر [صنف] کی توثیق کرے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
حالانکہ، سلمیٰ کو ووٹر آئی ڈی بنوانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں، ’’نہ تو میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں اور نہ ہی کسی ایسے شخص کے ساتھ، جس کو میری شناخت کا علم نہ ہو۔‘‘







