کملا دیوی جس زمین پر اب مزدوری کر رہی ہیں، وہاں سے وابستہ پرانی یادوں کی درد بھری لہریں انہیں گھیر لیتی ہیں۔ ایک زمانے میں اُن کا کنبہ ۱۸ ایکڑ زمین کا مالک تھا۔ ‘‘میں وہاں پر لوگوں سے مزدوری کرواتی تھی، لیکن اب میں خود ہی ایک مزدور ہوں،’’ وہ دھیمی آواز میں کہتی ہیں۔
کملا درج فہرست قبیلہ تھارو سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی بڑی تعداد اُدھم سنگھ نگر میں رہتی ہے، جو ہمالیہ کے دامن میں واقع ایک زرخیز ضلع ہے۔ یہاں کے لوگوں کو اُتراکھنڈ کے اولین باشندوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو نہایت ہی پسماندگی کا شکار ہیں۔
ایک ایسی ریاست میں جہاں ہر ۳۵ افراد میں سے ایک شخص قبائلی برادری سے تعلق رکھتا ہے، کملا جیسے بہت سے لوگوں کی زمینیں غیر قبائلیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں۔ کملا کی زمین اِس بھروسے پر چلی گئی کہ وہ اپنے کُنبے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی وقت کم شرح سُود پر قرض حاصل کر سکتی ہیں۔
‘‘ہمیں قرض کی ضرورت اس وقت آن پڑی جب میرے سسُر بیمار ہوئے۔ پھر میرے شوہر کے لیے۔ اس کے بعد میری نندوں کی شادی کے لیے…‘‘ یہ کہتے ہوئے اُن کی آواز بھر آئی۔
ستار گنج تحصیل کے پنڈاری گاﺅں میں ۴۷ سالہ کملا جب ۲۸ سال قبل دُلہن بن کر آئی تھیں، تب اُن کے سسُر تولہ سنگھ ایک خوشحال کسان ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے کُنبے کے خوشحال دنوں کو یاد کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اپنے آنگن کو دکھاتی ہیں۔ ’’فصل کٹائی کے موسم میں گھر کا سارا آنگن اناجوں سے بھر جاتا تھا ۔ لالہ لو گ (تاجر) اپنے آدمیوں کے ذریعہ ہم سے خریدے گئے گیہوں اور چاول ٹرکوں میں لدوا کر لے جاتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔







