پچھلے سات سالوں سے میں تصویروں کے ذریعہ صفائی ملازمین کی زندگی اور جدوجہد کو درج کر رہا ہوں۔ میں نے ان سالوں میں انہیں کبھی بھی مناسب ماسک یا حفاظتی آلات کے ساتھ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جو بھی تھوڑے بہت سامان وہ استعمال کرتے ہیں، اس کا انتظام و انصرام وہ خود ہی کرتے ہیں۔
ہندوستان میں سائنسی پیش رفت بھلے ہی نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہو، لیکن ہم اب بھی انسانوں کو پرنالوں (سیوروں) میں بھیجتے ہیں، جہاں وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، اور کئی بار تو جان گنوا بھی دیتے ہیں۔ یہ صاف دکھاتا ہے کہ سائنس آگے بڑھ گیا ہے، لیکن ذات پر مبنی بدگمانی ہمارے معاشرتی ڈھانچہ میں گہری پیوست ہے۔
سماج صفائی ملازمین کو صرف غیر معمولی حالات، مثلاً کووڈ وبائی مرض یا قدرتی آفات کے وقت ’’فرنٹ لائن ورکرز‘‘ کے طور پر یاد کرتا ہے۔ باقی وقت، انہیں صرف کچرا صاف کرنے والے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایک سے ۱۳ اگست تک، صفائی ملازمین نے چنئی میونسپل کارپوریشن کی عمارت، رپن بلڈنگ کے سامنے روزانہ دھرنا دیا۔ یہی عمارت گریٹر چنئی کارپوریشن کا ہیڈکوارٹر ہے۔ دھرنے کے ۱۳ویں دن، حکومت تمل ناڈو نے پولیس کی مدد سے انہیں زبردستی ہٹا دیا۔
ژون ۵ (رائے پورم) اور ۶ (تیرو وی کا نگر) کے صفائی ملازمین یکم اگست سے اجتحاجی مظاہرہ پر بیٹھے تھے، جب گریٹر چنئی کارپوریشن نے ان علاقوں سے ٹھوس کچرے کے انتظام کا کام پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔
ان مزدوروں کے لیے، جن میں زیادہ تر دلت عورتیں ہیں اور جنہوں نے برسوں سے شہر کی صفائی کی ہے، نجکاری کا سوال مزدوری سے جڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ ان کے عزو وقار اور وجود سے جڑا ہوا ہے۔ کارپوریشن کے ساتھ سیدھا روزگار کھونے کا مطلب ہے، مستقل نوکری کی امید سے بھی ہاتھ دھو بیٹھنا۔ ان کا احتجاج اپنی روزی روٹی کو بچانے کی بھی لڑائی ہے اور سماج کو نظر نہ آنے والی اپنی محنت کو ’’ہنرمندی‘‘ کے نام پر اور بھی کم تر قرار دیے جانے سے انکار بھی ہے۔


























