ہوا میں مٹی اور لکڑی کے دھوئیں کی بو رچی بسی ہے۔ ایک بڑے ٹب میں سفید مٹی رکھی ہوئی ہے۔ اس مٹی کے دھبوں سے سیمنٹ کا فرش داغدار ہو رہا ہے۔ برتن کے سانچے اور نامکمل برتن جا بجا بکھرے پڑے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں چلنا بھی مشکل ہے۔ ’’سنبھل کر،‘‘ حمید احمد ہر ایک کو مسلسل احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہیں۔
بارہ سال کا ایک لڑکا چاک پر بیٹھا اسے چلانے کی مشق کر رہا ہے۔ یہ حمید کے بیٹے محمد سلمان ہیں۔ ان کا پورا جسم سفید مٹی کے غبار میں اٹا ہوا ہے۔ وہ اپنی دائیں ٹانگ سے نیچے زمین پر موجود چاک کو چلاتے ہوئے بائیں ٹانگ پھیلاتے ہیں۔ وہ پورے انہماک کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہیں۔
’’اسے [برتن کو] آہستہ سے اتارو،‘‘ حمید انہیں ہدایت دیتے ہیں۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، کیوں کہ ۴۹ سال کے ہنرمند کمہار تقریباً نو سال کے تھے جب انہوں نے اپنے والد سے اس مخصوص کک وہیل تکنیک کو سیکھنا شروع کیا تھا۔ ’’میں نے شروعات میں کچھ برتن توڑ دیے تھے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے یاد کرتے ہیں۔ ’’یہ ہنر مشق سے ہی آتا ہے۔‘‘
دس بھائیوں میں سے ایک، حمید ساتویں نسل کے کمہار ہیں۔ اتر پردیش کے سیرامک سٹی خورجہ میں صرف انہی کا خاندان ایسا ہے جو آج بھی اس تکنیک کا استعمال کر رہا ہے۔ خورجہ اپنے مخصوص برتنوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ برتن زیادہ تر مسلم کاریگر بناتے ہیں۔



















