تیّرا فنکار ایم کے کیلوکُٹّی نے ایک بار ایک مقدس باغ میں پرفارمنس کے دوران ایک درخت سے ایک پتّہ توڑ لیا تھا۔ ’’ان سے کہا گیا تھا کہ انہوں نے اس جگہ کو ’آلودہ‘ کیا ہے، اور اس کے لیے وہ چار آنے ادا کریں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اس وقت وہ ایک دیوتا کا کردار ادا کر رہے تھے،‘‘ ان کے پوتے، ایم کے کُنجی رمن یاد کرتے ہیں۔
تیّرا فنکار درج فہرست برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، اور اگرچہ اعلیٰ ذات کے مندروں میں بطور اداکار ان کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، لیکن یہ جگہیں ان کے لیے ممنوع ہیں۔ یہ رسومیاتی رقص ’کاوُو‘ (مقدس باغوں) کے ساتھ ساتھ مندروں کے احاطہ میں بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں دیوتا کو بیٹھایا جاتا ہے وہاں جانا یا پرفارم کرنا ممنوع ہوتا ہے۔
کنجی رمن کا تعلق وَنّن برادری سے ہے، جن کا روایتی کام کپڑے دھونا ہے، عام طور پر اونچی ذات کے لوگوں کے۔ وہ کیرالہ میں درج فہرست ذات کے طور پر درج ہیں۔ کنجی رمن نے کم عمری سے ہی اپنے والد اور دادا (دونوں تیرّا فنکار تھے) کے ہمراہ جانا شروع کر دیا تھا۔ جب ان کی عمر چالیس کی دہائی میں پہنچی تو انہوں نے پرفارم کرنا شروع کیا۔
’’تلچیلون، کریاتن، کُٹّی چتن، ویٹّکورومکن، کنّیکاک رُوون…‘‘ ۸۷ سالہ بزرگ ان دیوتاؤں کے نام تیزی سے گنواتے ہیں جن کے کردار انہوں نے ادا کیے تھے۔
پھر کُنجی رمن ’انجڈی‘ اور ’ٹوٹّم پٹّو‘ گانا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلا گیت دیوتا سے دعا کے لیے گایا جاتا ہے جو رقاص کے جسم کو سنبھال لیتے ہیں اور دوسرے گیت میں کُٹّی چتن کی تاریخ بیان کی جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ٹوٹّم پٹّو دیوی بھگوتی کو بلانے کے لیے گایا جاتا ہے نہ کہ کٹی چتن کے لیے، جن کی پوجا حفاظت اور خوشحالی کے لیے کی جاتی ہے۔ انہیں اپنے سینہ پر آٹھ پُلّی (نقطوں) کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
ان کی مترنم آواز پوری فضا میں رچ بس جاتی ہے۔ ’’کٹی چتن کی ماں ولّوا [نچلی ذات] اور اس کے باپ نمبودری [برہمن] تھے۔ ایک دفعہ جب ان کی عمر کم تھی، انہیں بہت بھوک لگی۔ وہ طویل عرصہ سے بھوکے تھے، پھر انہوں نے اپنے ریوڑ میں سے ایک بھینس کو مار ڈالا اور اس کا خون پی لیا۔ غصہ میں آکر ان کے باپ نے انہیں مار ڈالا اور اور ان کے ۳۹۹ ٹکڑے کر ڈالے،‘‘ کنجی رمن بتاتے ہیں۔
وہ کوزی کوڈ ضلع کے شیو پورم گاؤں میں اپنے دو منزلہ مکان کے برآمدہ میں بیٹھے ہیں۔ ’’اس طرح آج ہمارے پاس بہت سے کٹی چتن ہیں – پُو کُٹّی، تی کُٹّی، کری کُٹّی،‘‘ وہ اس رپورٹر کو بتاتے ہیں۔


























