سال ۲۰۱۲ میں شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی انجو رانی کی زندگی دھیرے دھیرے خستہ حال ہونے لگی۔ انجو (۳۴) دو بچوں کی ماں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میرے شوہر کی شراب کی بری عادت کی وجہ سے ہمارے درمیان روزانہ لڑائی جھگڑے ہوتے تھے، جس کی وجہ سے میں اندر ہی اندر ٹوٹتی جا رہی تھی۔‘‘
انجو کا شوہر گھر چلانے کے لیے کوئی خرچ نہیں دیتا تھا۔ بیٹی کی پرورش کرنے تک کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ ’’ہمارے بجلی کے بل اکثر بقایا رہ جاتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’قرض اتنا ہو گیا تھا کہ اُدھار دینے والے لوگ آئے دن گھر آ کر ہمیں تنگ کرتے تھے۔ وہ تمام دن میں نے خوف میں گزارے ہیں۔‘‘
انجو کا سسرال مغربی اتر پردیش کے سیانا قصبہ میں تھا۔ اکثر لڑائی جھگڑے کے دوران انجو سیانا سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور ایاد نگر گاؤں میں اپنے والدین کے گھر (میکے) چلی آیا کرتی تھیں۔ مگر ان کے پڑوسی اور رشتہ دار ان کی شادی شدہ زندگی میں چل رہے تناؤ کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ یہ سب عام بات ہے۔ وہ ہر بار انجو کو ان کے شوہر کے پاس لوٹنے کے لیے زور دیتے رہے۔ کئی سالوں تک مجبوری میں انجو اپنی بیٹی کے ساتھ واپس اپنے شوہر کے پاس لوٹ جاتی تھیں۔
تقریباً ۱۵ سال پہلے شوہر کے کینسر سے گزر جانے کے بعد، انجو کی ماں تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔ خستہ حال چارپائی پر اپنی ماں کے پاس بیٹھیں انجو کہتی ہیں، ’’ایک دن میں سب کچھ ہار کر ہمیشہ کے لیے میکے آ گئی۔ نہ ہی وہ مجھے لینے آئے اور نہ ہی میں کبھی واپس گئی۔‘‘
میکے میں رہ کر انجو نے گھر چلانے کے لیے کھیتوں میں دہاڑی مزدوری کرنا شروع کیا۔ انہیں فصلوں کے سیزن اور کام کی دستیابی کی بنیاد پر روزانہ ۲۰۰ سے ۲۵۰ روپے تک کی مزدوری مل جاتی تھی۔
سال ۲۰۱۷ میں انہوں نے پھر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انہیں دوسری بیٹی ہوئی۔ ’’میں نے زندگی کو پھر سے جینے کی کوشش کی، مگر دوسری شادی اور بھی بری رہی۔ دوسرے شوہر کو بھی شراب کی بری عادت تھی اور وہ پینے کے بعد میرے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا۔ وہ شراب کے لیے گھر میں رکھا ہوا ضروری سامان بیچ دیا کرتا تھا۔ اس نے اناج اور کولر ہی نہیں، بلکہ میری سلائی مشین بھی بیچ دی تھی۔ اس نے لوگوں کے گھروں سے سامان چوری کرنا شروع کر دیا۔ میں سماج کے آگے شرمندہ ہوا کرتی تھی۔‘‘









