’’لاک ڈاؤن کے دوران، وشاکھاپٹنم سے اپنے گھر پہنچنے کے لیے ہمیں مسلسل ۱۲ دنوں تک پیدل چلنا پڑا تھا،‘‘ ۴۵ سالہ کئل بھوئیاں ۲۰۲۰ میں کووڈ۔۱۹ کے خوفناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ اُس وقت وہ اگنم پُڈی میںلارسن اینڈ ٹوبروکے تعمیراتی مقام پر بطور دہاڑی مزدور کام کرتے تھے۔
اُس وقت تقریباً ۱۰۰۰ کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے جھارکھنڈ جانے والوں میں ان کے ساتھ تقریباً ۸۰ لوگ تھے، جن میں ۱۰ خواتین اور چار بچے بھی شامل تھے۔ ’’ہم رات دن چلتے رہے۔ جب بہت تھک جاتے تو ایک گھنٹہ سو لیتے، پھر دوبارہ چل پڑتے۔‘‘ جھارکھنڈ کے پلامو ضلع کے ربدا گاؤں تک کا پورا سفر انہوں نے اسی طرح طے کیا۔
تقریباً چھ سال بعد، کئل نے ایسا ہی سفر دوبارہ کیا، مگر اس بار وہ ٹرین سے قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) سے لوٹے۔ لیکن اس بار ان کی واپسی ایک دوسری خوفناک حقیقت کی طرف ہو رہی تھی۔
وہ ایسے قرض میں ڈوب چکے ہیں جسے وہ ادا نہیں کر سکتے۔
امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والی مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سلنڈروں کی شدید قلت سے سب سے زیادہ مہاجر مزدور متاثر ہوئے ہیں۔
مارچ کے شروع میں، ’’ہر کوئی یہ کہنے لگا تھا کہ ایک اور لاک ڈاؤن آنے والا ہے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ اُس وقت وہ نوئیڈا میں لارسن اینڈ ٹوبرو کے تعمیراتی مقام پر بطور راج مستری یومیہ ۵۰۰ روپے کی اجرت پر کام کر رہے تھے۔
پھر ایل پی جی کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں، یعنی ۹۰ روپے فی کلو سے بڑھ کر ۳۰۰ روپے فی کلو ہو گئیں۔ ’’ہم نے [کھانا پکانےکے لیے] شٹرنگ کا سامان اور پلائی ووڈ جلانا شروع کیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’کسی طرح ہم نے کام چلایا۔‘‘ مگر صرف دس دنوں تک ہی گزارہ ہو پایا۔








