ہماری کورکو برادری کا عقیدہ ہے کہ اگر باگھ میدان میں آجائے تو یہ ایک نیک شگون ہے۔ اس کے قدموں کے نشان کسان کی خوشحالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر طرف خوشحالی کی۔
میرا نام رام لال ہے اور میں مہاراشٹر کے میل گھاٹ ٹائیگر ریزرو (ایم ٹی آر) کے بفر علاقہ کے گاؤں پائے وِہیر میں پیدا ہوا تھا۔ اور میں، وسنت، ایم ٹی آر کے مرکزی علاقہ میں واقع بورٹیا کھیڑا گاؤں میں رہتا ہوں۔ ہم دونوں کورکو قبائلی ہیں، اور ہمارے خاندان کئی نسلوں سے ان جنگلوں میں آباد ہیں۔
ہم اس شعور کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں کہ گایوں اور بیلوں کے گوبر پر باگھ کے پنجوں کے نشانات کا ملنا ایک نیک شگون ہے۔ اگر گوبر کے نشان والے ٹکڑے کو غلہ خانہ میں رکھ دیا جاتا ہے، تو اس کی موجودگی گھر میں اناج کی کمی نہیں ہونے دیتی۔
ہم مکئی، جوار، دھان، گندم، باجرا، سویابین، مونگ پھلی، سورج مکھی، تل، مٹر، مونگ، چنے اور دیگر دالیں اگاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہم خود استعمال کر لیتے ہیں اور جو تھوڑا سا حصہ باقی بچ جاتا ہے تو اسے فروخت کر دیتے ہیں۔ ہماری برادری کے زیادہ تر کسانوں کے پاس جنگل کی زمین کی کاشت کے لیے جنگلات کے انفرادی حقوق ہیں۔ ہم بارش پر انحصار کرتے ہیں لیکن آبپاشی کے لیے قریبی ندی نالوں اور کنوؤں کا پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔
















