لطفر مُلّا کہتے ہیں، ’’جب کسی گاؤں میں شیر [رائل بنگال ٹائیگر] آ جاتا ہے، تو وہاں افرا تفری مچ جاتی ہے۔‘‘
گاؤں میں شیر کے داخل ہونے کی خبر ملتے ہی لطفر اپنے لوگوں کے ساتھ فوراً پہنچتے ہیں اور شیر کو بھگانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے وہ محکمہ جنگلات کی بنائی ایک خاص ٹیم [کوئک رسپانس ٹیم) کا ذمہ سنبھال رہے ہیں، جس کا کام سندربن کے کُل تلی بلاک کے گاؤوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ریاستی محکمہ جنگلات نے ایسی دو ٹیمیں تعینات کی ہیں۔
شیر بھگانے والی ٹیم کے اس سربراہ کے بارے میں پتہ چلتے ہی ہم موئی پِٹ ساحلی پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے ان کے گاؤں پوربو گڑگڑیا کی طرف روانہ ہوئے۔
ایک کچی، اوبڑ کھابڑ سڑک سے چلتے ہوئے ہم گاؤں کی طرف مڑے جو آگے چل کر پگڈنڈی جیسی راہ سے مل گئی۔ اس ٹیڑھی میڑھی سڑک کے ساتھ ساتھ ماتلا ندی کی گہری کالی دھارا بھی بہہ رہی تھی۔ آدھے گھنٹہ کے پیدل سفر کے دوران ہمیں ماتلا میں کوئی بھی کشتی نظر نہیں آئی۔ ندی کے دوسری طرف ایک بڑا گھنا سا جنگل ہے۔
پوربو گڑگڑیا کی آبادی تقریباً ۵۶۰۰ (مردم شماری ۲۰۱۱) ہے، جس میں زیادہ تر ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالانکہ، یہاں مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔ بھونیشوری پنچایت کے تحت آنے والے اس گاؤں میں مچھلی پکڑنا اور کھیتی کرنا، یہی روزی روٹی کے دو بنیادی ذرائع ہیں۔
جب ہم بٹ ٹولہ محلہ میں پہنچے، تو ہم نے لطفر کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ یہیں اسی محلہ میں رہتے ہیں۔ بٹ ٹولہ سے ملحق کالی مندر کے آنگن میں ایک نوجوان لڑکا کیکڑوں سے بھرا تھیلا پکڑے کھڑا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی اس نے پوچھا، ’’آپ لوگ کولکاتا سے آئے ہیں نا؟ میں لطفر مُلا کا بڑا بیٹا ہوں۔ میں تو آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘
لطفر کا گھر پاس ہی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بنا یہ ایک منزلہ گھر تقریباً ۱۰۰۰ مربع فٹ زمین پر بنا ہے۔ گھر میں اینٹ کے بنے تین چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں، پکی چھت ہے اور ایک برآمدہ ہے۔ گھر کے سب سے بڑے کمرے میں جیسے ہی میں داخل ہوا، بستر پر لیٹے ایک آدمی کی دھیمی آواز سنائی دی: ’’کیا کہوں، کئی دنوں سے بخار نے پکڑ رکھا ہے۔‘‘ کیا یہی لطفر مُلّا ہیں؟ اتنا کمزور انسان ہے!








