ایک تاریک اسٹیج ناظرین کا استقبال کرتا ہے، جہاں مردوں اور عورتوں کے سائے ایک ایسے چبوترے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو کسی پلیٹ فارم کی مانند نظر آتا ہے۔ ’’سال در سال، بالائی علاقوں سے دریا کے ذریعے لائی گئی مٹی ساحل کے متوازی جمع ہوتی گئی اور سمندری پانی کے ساتھ ساتھ جزیرے بنتے چلے گئے۔‘‘ پسِ منظر میں ایک آواز کیرلم کے ارناکولم ضلع کے ساحلی گاؤوں کی زمین اور تاریخ سے ناظرین کو روشناس کراتی ہے۔ سائے کے پیچھے دکھائی جانے والی تصویری جھلکیاں اس علاقہ کی تاریخ بیان کرتی ہیں، جس کا آغاز ۱۳۴۱ عیسوی سے ہوتا ہے، جب یہ تاریخی بندرگاہی شہر موزیریس کا حصہ تھا۔
جیسے ہی اسٹیج پر مدھم روشنی پھیلتی ہے، ہم دس کرداروں کو ایک گھر کے سامنے سیلاب زدہ سڑک پر گھٹنوں تک گہرے پانی میں چلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ پس منظر میں بجنے والی موسیقی، جو کسی خطرے کی گھنٹی یا سائرن جیسی محسوس ہوتی ہے، تیز ہوتی جاتی ہے اور وہ بھیگے ہوئے، بھاری قدموں کے ساتھ پانی چیرتے ہوئے ناظرین کی طرف بڑھتے ہیں۔
سیلجا کے ایس اِس اسٹیج پر موجود اُن دس افراد میں سے ایک ہیں۔ اس ڈرامے کا نام چیوِٹّورما ہے۔ یہ ایک مقامی کیتھولک رسم کا نام ہے، جس میں مرنے والے شخص کے کان میں تسلی دینے کے لیے آہستہ سے دعائیہ سرگوشی کی جاتی ہے۔ اس ڈرامے میں حصہ لینے والے دیگر تمام افراد کی طرح سیلجا کو بھی اداکاری کا پہلے سے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ درحقیقت، یہ اجتماعی تھیٹر ان کے لیے ایک ایسی جگہ ہے جہاں حقیقت اور افسانے کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
’’میں نے اکثر اپنی ماں کو یہ کہتے سنا ہے کہ بچپن میں میں بہت شرارتی تھی۔ صرف شرارتی ہی نہیں، بلکہ ایک چھوٹا سا طوفان تھی۔ ان دنوں وہ مجھے کہانیاں سنا کر کھانا کھلانے کے لیے بہلاتی تھیں۔ ہلکے گرم چاولوں کی دلکش خوشبو اور منہ میں پانی بھر دینے والا ذائقہ، اس میں ناریل کا ہلکا سا تیل اور نمک ملا ہوا…! پھر جب میں تقریباً ۱۲ یا ۱۳ سال کی تھی تو ہاتھ کی لکیریں پڑھنے والا ایک شخص ہمارے گھر آیا۔ اس نے میری ہتھیلی دیکھ کر کہا، ’یہ ایک دن اس گھر کو بالکل خالی کر دے گی، حتیٰ کہ نمک کا آخری دانہ بھی لے جائے گی!‘ اس بات نے مجھے پریشان کر دیا۔ کیا میں کبھی ایسا کر سکتی تھی؟ لیکن سب لوگ ہنس پڑے۔
’’کئی سال بعد، ۲۰۱۸ میں، میری ماں میرے ساتھ تھیں۔ وہ بیچاری صرف چند دن میرے پاس رہنے آئی تھیں۔‘‘ سیلاب کے فوراً بعد اپنی ماں کو کھو دینے کی کہانی سیلجا ایک محو ہو کر سننے والے مجمع کے سامنے ہاتھ میں نمک کی ڈبیہ تھامے بیان کرتی ہیں۔
’’یہ تھیٹر گروپ ایک فیملی کی طرح ہے۔ اس نے میری ذہنی صحت بحال کرنے میں میری مدد کی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں بھی کچھ کرنے اور معاشرے کو کچھ واپس دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں،‘‘ ذاتی طور پر باروزگار ۵۷ سالہ سیلجا فخر سے کہتی ہیں۔ وہ خود کو ایک گھریلو خاتون کہتی ہیں، لیکن آمدنی کے لیے گھر میں تیار کیے گئے اچار فروخت کرنے والی ایک کاروباری خاتون بھی ہیں۔ اور حال ہی میں انہوں نے زیورات کی ایک دکان پر سیلز کی ملازمت بھی شروع کی ہے۔ ’’کمیونٹی تھیٹر نے مجھے ۲۰۱۸ میں پیش آنے والے واقعہ سے باہر نکلنے اور یہاں دوسروں کے ساتھ اپنے تجربات بانٹنے میں مدد کی، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جنہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ ہم [سمندری سیلابوں کا] کس طرح سامنا کرتے ہیں۔‘‘


















