سندھیا کا مطلب ہوتا ہے شام کا وقت، جب چاروں طرف اندھیرا ہونے لگتا ہے۔ میں بچپن میں بہت کالی تھی، تو میرے گھر والوں کو لگا کہ یہی نام میرے لیے صحیح رہے گا۔ اس لیے میرا نام سندھیا رکھا گیا۔
میں کالی تھی، اس لیے فیملی کے لوگ مجھ سے زیادہ پیار نہیں کرتے تھے۔ بچپن سے ہی مجھے سماج میں بھید بھاؤ جیسے دقیانوسی خیالات سے متعارف کروایا گیا، جو میرے ذہن و دل میں گھر کر گیا۔
میں ۱۹۹۶ میں جھارکھنڈ کے سنگھری گاؤں میں مُنڈا آدیواسی فیملی میں پیدا ہوئی تھی۔ میری ماں کا نام نرملا کرکیٹا اور والد کا نام سُمن لکڑا ہے۔ ہمارا گھر چترا ضلع میں ہے، جو جنگلات، پہاڑوں، ندیوں اور آبشاروں سے گھرا ہوا ہے، اور جھارکھنڈ اور بہار کی سرحد پر واقع ہے۔
ہمارے والدین کسان ہیں – ہمارے پاس دو ایکڑ زمین ہے، جس پر ہم موسم کے مطابق بھنڈی، سیم، آلو، پھول گوبھی، گاجر جیسی سبزیاں اُگاتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم دھان کی بھی کھیتی کرتے ہیں۔ لیکن اس سے ہمیں بہت کم آمدنی ہوتی ہے۔ ہماری پوری فیملی کی سالانہ آمدنی ۳۰ ہزار روپے ہے، جس میں میرے والد کی یومیہ مزدوری بھی شامل ہے، جو وہ کھیتوں اور سڑک کی تعمیر کا کام کرنے اور ٹیوب ویل کی کھدائی کرنے میں کماتے ہیں۔
میرے گاؤں میں مہوا (مدھوکا لونگی فولیا لیٹی فولیا) کا درخت ہونے کی وجہ سے میرے والدین نے ہماری پرورش کرنے کے لیے مہوا کی شراب بیچنے کا کام کیا، جس سے ہماری چھ رکنی فیملی کا خرچ چلتا تھا – میری دو بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ انہوں نے گاؤں میں ایک چھوٹی سی مٹھائی کی دکان بھی کھولی، جس سے ہماری پڑھائی کا خرچ اٹھایا جا سکے۔
ہم تقریباً ۱۵ لوگوں کے مشترکہ خاندان میں رہتے تھے، اس لیے گھر میں ہمیشہ کام بہت رہتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں بڑی ہوتی گئی، تو مجھے خاندان میں ہی نوکر کی طرح کام کرنا ہوتا تھا۔ جب میں دوسری کلاس میں تھی، اور ۷ سال کی رہی ہوں گی، تو گھر کا سارا کام کر لیتی تھی، جیسے تمام اہل خانہ کے لیے کھانا بنانا، برتن صاف کرنا، گھر کی صفائی، گئوشالہ کی صفائی، گائے اور بکری چرانا، جنگل سے لکڑی لانا وغیرہ۔


















