صبح کے پانچ بج رہے ہیں۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا ہے، مگر بہار کے گوپال گنج ضلع کے اس چھوٹے سے قصبہ، ہتھوا میں دو الگ الگ صدائیں لوگوں کو جگا رہی ہیں۔ ایک طرف جہاں چند مسجدوں کی میناروں سے اذان کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف علاقہ کے تین چار مندروں سے بھجن کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔ ’اللہ اکبر! اللہ اکبر! اشہد ان لا الٰہ الا اللہ...‘ کی سریلی صدا، جھانجھ کی تال پر گونجتی ’ہرے رام، ہرے کرشن، ہرے کرشن، ہرے رام‘ کی آوازوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔ اور پھر کہیں ذرا قریب سے بانسری کی آواز ابھرتی ہے، جو ان مختلف سُروں کو صبح کی پُرسکون اور دلکش فضا میں پرو دیتی ہے۔
بانسری پر بجتی اس دھن کی کشش اور اس فنکار سے ملنے کا تجسس، مجھے ۱۷۶ سال پرانے گوپال مندر تک لے جاتا ہے۔ یہ عمارت ۱۸۵۰ سے ۱۸۶۶ کے درمیان اُس وقت کی مہارانی شیام سندری کنور نے تعمیر کروائی تھی۔ اس کے اطراف میں پرانا قلعہ، نیا قلعہ اور ایک شیش محل واقع ہیں۔ اس شاہی مندر کے عظیم الشان دروازہ پر ایک سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہا ہے۔ یہ مندر تقریباً چار لاکھ ۵۰ ہزار چاندی کے سکّوں کی لاگت سے تعمیر ہوا تھا، جو آج کی مالیت کے حساب سے تقریباً ۵۵ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس ۱۴ ایکڑ میں پھیلے احاطہ کے اندر باغات، فوارے، تالاب، ایک سنسکرت یونیورسٹی کی عمارت، اور کئی کمروں پر مشتمل مشہور گوپال مندر موجود ہے۔
یہ مندر یہاں کے ایک قدیم شاہی خاندان کے وارثین کی ذاتی ملکیت ہے، جو کبھی ہتھوا کی نوابی ریاست پر راج کرتا تھا۔ اسے صبح اور شام کے اوقات میں عوام کے لیے کھولا جاتا ہے، جب چند عقیدت مند آہستہ آہستہ وہاں آتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک پجاری اندرونی مقدس حصہ میں رکھے رادھا کرشن کے مجسموں کے سامنے آرتی کرتا ہے۔ اس کے سامنے بڑے ستونوں والے ہال کے فرش پر موسیقار اپنے سازوں – طبلہ، ہارمونیم اور جھانجھ – کے ساتھ بیٹھ کر آرتی کرتے ہیں۔ انہی کے درمیان محمد صغیر انصاری بھی موجود ہیں، وہ فنکار جن کے بارے میں میں نے اپنے ساتھیوں سے سنا تھا۔
ستر سالہ مسلم موسیقار، جو گوپال مندر میں دیوی دیوتاؤں کے حضور اپنی بانسری کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے اس کام میں کچھ بھی غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا۔ ’’سبھی انسان برابر ہیں۔ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے،‘‘ صغیر انصاری کہتے ہیں۔ ’’ہم سب کو محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ یہ ایک علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے، اور علم بانٹنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے یہاں بانسری بجا رہا ہوں۔‘‘







