’’انہوں نے میرے دو برتن چُرا لیے!‘‘
آنندو لوہار کو غصہ آ رہا ہے۔ دن کی شروعات ہی خراب ہو گئی ہے۔ گوال پاڑہ کے رہنے والے آنندو نے نہ صرف وہ رس گنوا دیا جو انہیں برتنوں میں ملنا تھا، بلکہ ان کو ۹۰ روپے کا نقصان بھی ہو گیا۔ یہ قیمت اُن دو برتنوں کی ہے، جنہیں وہ اپنے گھر سے تین کلومیٹر سے کچھ دور سوناجھُری سے خریدتے ہیں۔
آنندو کو کھجور یعنی ہندوستانی کھجور کے درخت (فینکس سِلویسٹرِس) کا میٹھا رس جمع کرنے کے لیے برتن چاہیے۔ وہ شیولی ہیں، یعنی وہ لوگ جو کھجور کے درختوں پر چڑھتے ہیں، ان کا تنا کاٹ کر رس نکالتے اور جمع کرتے ہیں۔ یہ کام موسم میں ہی ہوتا ہے، جو اکتوبر سے جنوری تک چلتا ہے۔ وہ بنگالی مہینہ اشوِن میں سرگرم ہو جاتے ہیں، جو خزاں کے موسم کے آس پاس آتا ہے۔ ایک اور اہم بات، شیولی رات میں کھِلنے والے اُس پھول کا نام بھی ہے، جو بنگال میں خزاں کے موسم کے آنے کا اشارہ ہے۔
اپنی عمر کے سبب کچھ جھکے ہوئے سے نظر آتے ۶۵ سالہ آنندو تقریباً چھ سات سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ یعنی تب سے، جب بولپور شہر میں وہ اینٹ بھٹّہ بند ہوا، جس میں وہ کام کرتے تھے۔
آنندو اپنے برتنوں کے چوری ہونے سے پریشان ہیں اور بڑبڑا رہے ہیں، ’’ہر موسم میں یہی ہوتا ہے۔‘‘ ہم اگلے درخت کی طرف بڑھنے لگے ہیں جن پر وہ چڑھیں گے۔ ہمارے پیروں کے نیچے خشک تاڑ کے پتوں کے چرمرانے کی تیز آوازیں آ رہی ہیں۔ دسمبر کی سرد صبح ہے اور آنندو نے ٹھنڈ سے بچنے کے لیے ٹوپی پہن رکھی ہے۔ پٹّہ (لیز) پر لیے گئے ان کے درخت مانساتلا میں ان کے مٹی کے گھر سے تھوڑی دور تقریباً ۳۰۰ میٹر کے فاصلہ پر ہیں۔ مگر دمّہ کا مریض (سانس لینے میں تکلیف) ہونے کے سبب ان کے لیے زیادہ محنت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ واپسی میں ان کے لیے تقریباً سات آٹھ کلو تازہ رس لاد کر لانا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔


































