’واء یا‘ آسانی سے کسی بالغ انسان کی ہتھیلی میں سما جاتا ہے۔ یہ ساز، جو ’واء‘ (بانس) سے بنا ہے، ساڑھے چار انچ سے تھوڑا ہی لمبا ہوتا ہے، اور ’’رومانس کی علامت تصور کیا جاتا ہے،‘‘ ناپ لو بانس کی چھوٹی سی پٹّی کو اپنے ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے کہتی ہیں۔
ناگالینڈ کے مون ضلع میں رہنے والی ناپ پہلے کسان ہوا کرتی تھیں۔ ہم سے بات کرتے وقت وہ اپنا چھوٹا آلہ موسیقی نکالتی ہیں، جسے انہوں نے اپنی آستین میں دبا رکھا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ بانس اور دھاگے کا ایک سرا پکڑتی ہیں۔ دائیں ہاتھ سے وہ اُس دھاگے کو پکڑتی ہیں، جس کے سرے پر رنگ برنگے پھندنے لٹکے ہوئے ہیں۔ اور پھر وہ ’واء یا‘ بجانا شروع کرتی ہیں۔
ناپ کے بغل میں ان کی بچپن کی سہیلیاں یینگ لیہہ اور نیئیلی بیٹھی ہیں، اور سبھی کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے۔ وہ تینوں اؤلیئنگ کے لیے ساتھ آئی ہیں، جو مون گاؤں میں بیپٹسٹ چرچ کے بغل میں واقع میدان میں منعقد کیا جا رہا تھا۔






