’’آساریوں کا تعلق وشوکرما برادری سے ہے۔ وہ مادی فن کے کاریگر ہیں جو دھات، پتھر اور لکڑی کا کام کرتے ہیں۔ اس برادری کے بہت سے لوگ اپنے تخلیقی مشاغل کو چھوڑ کر ذات پات پر مبنی روایتی پیشوں سے منسلک مزدوری کی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ نوجوان نسل بھی عزت بخش نوکریوں کی طرف مائل ہو چکی ہے،‘‘ ٹی ایم کرشنا اپنی کتاب ’سیباسٹیئن اینڈ سنز‘ میں لکھتے ہیں۔
’’جب ہم موروثی اور ذات پات پر مبنی پیشوں کی بات کریں، تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ علم کی تخلیق میں اسے بین نسلی تسلسل کے طور پر رومان زدہ نہ بنایا جائے، کیونکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں تمام لوگ اور پیشے مساوی نہیں ہیں،‘‘ کرشنا کہتے ہیں۔ ’’وہ کام جو ذات پات کے مراعات یافتہ خاندانوں کے اندر منتقل ہوتا ہے اسے علم سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کی ذات پات کی بنیاد پرجاری محدود اشتراک کو تحفظ گردانا جاتا ہے۔ اور اسے اختیار کرنے والوں کو جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ جبکہ وہ پیشے اور کام کی وہ شکلیں جو مظلوم یا پسماندہ برادریوں میں نسل در نسل جاری رہتی ہیں علم نہیں سمجھی جاتیں۔ نہ ہی ان سے متعلق لوگوں کو علم کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے، ان کی ناقدری کی جاتی ہے اور ان کے کام کو جسمانی مشقت کے کام کے طور پر درجہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان پیشوں کو اپنانے والوں کو ذات پات کی بنیاد پر جبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے معاملات میں سماجی حالات کی وجہ سے، ان کے پاس خاندان یا ذات کی طرف سے تفویض کردہ کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔‘‘
کرشنا کہتے ہیں، ’’اس ملک میں اگر موسیقی کے ساز بنانے والوں کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو تکنیکی خطوط پر کی جاتی ہے۔ انہیں تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے ایک مستری [بڑھئی] کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ سازندے کو معمار (آرکٹیکٹ) کی طرح۔ ان کے کام کو اعتبار دینے سے انکار یا اس میں بخالت، ذات پات کے تعصب کی وجہ سے ہوتی ہے۔‘‘
کُپّوسامی کا کہنا ہے کہ مریدنگم سازی میں مردوں کا غلبہ ہے۔ ’’کچھ خواتین ہیں جو چمڑے کا کام کرتی ہیں۔ لیکن لکڑی کے کام پر مردوں کی اجارہ داری ہے۔ اس کے لیے جو لکڑی استعمال کی جاتی ہے وہ عام طور پر کٹہل کے ایسے درختوں کی ہوتی ہے جن پر پھل آنا بند ہو جاتا ہے۔ کُپّوسامی کا کہنا ہے کہ ’’وہ ان درختوں کو ’’منتخب‘‘ کرتے ہیں، جو پرانے اور غیر پیداواری ہو چکے ہوتے ہیں۔ ’’اور ہر دس کٹے ہوئے درختوں کے عوض وہ ۳۰ نئے پودے لگاتے ہیں۔‘‘
کُپّو سامی کے لیے لکڑی کی بہت سی تخصیصیں ہیں۔ وہ ایسے درختوں کو ترجیح دیتے ہیں جو لگ بھگ ۹ یا ۱۰ فٹ لمبے، چوڑے اور مضبوط ہوں اور باڑ کے قریب یا سڑک کے کنارے ہوں۔ مثالی طور پر وہ لکڑی کا نچلا حصہ لیتے ہیں، جس کا رنگ گہرا ہوتا ہے اور جو بہتر ارتعاش کو یقینی بناتا ہے۔
ایک دن میں وہ تقریباً چھ مریدنگم کو کاٹ کر شکل دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کی تکمیل میں مزید دو دن صرف ہوتے ہیں۔ ان سے حاصل منافع بہت کم ہوتا ہے۔ ان کہنا ہے کہ اگر وہ ایک مریدنگم پر ۱۰۰۰ روپے کما لیتے ہیں، تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔ یہ منافع ’’مزدوروں کو ادا کیے جانے والے ۱۰۰۰ روپے کے اوپر سے ہوتا ہے۔ یہ محنت طلب کام ہے، اگر اتنی مزدوری نہ دی جائے تو وہ نہیں آئیں گے۔‘‘
لکڑی پورے سال دستیاب نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک درخت پھل دے رہا ہوتا ہے، اس وقت تک کوئی بھی اسے نہیں کاٹتا۔ لہذا ’’مجھے لکڑی کا اسٹاک رکھنا پڑتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ وہ ۲۵ ہزار روپے فی لکڑی کے ٹکڑے کے حساب سے درخت کے ۲۰ ٹکڑے پانچ لاکھ روپے میں خریدتے ہیں۔ اور وہ یہیں حکومتی مداخلت کے خواہاں ہیں۔ ’’اگر وہ لکڑی خریدنے کے لیے ہمیں سبسڈی یا قرض دیتے ہیں… تو یہ ہمارے لیے اچھا ہوگا!‘‘
کُپّوسامی کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی دونوں بازروں میں مریدنگم کی اچھی مانگ ہے۔ ’’میں ایک مہینے میں ۵۰ مریدنگم اور ۲۵ تَویلیں فروخت کرتا ہوں۔‘‘ لیکن مصیبت صحیح لکڑی حاصل کرنے اور اسے تقریباً چار ماہ تک پکانے میں ہوتی ہے۔ کُپّوسامی کہتے ہیں کہ چونکہ پنروتی کی کٹہل کی لکڑی ’’بہترین‘‘ ہوتی ہے، ’’اس لیے اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔‘‘ اور اس کے پکے سُر کا سہرا وہ اس خطے کی سرخ مٹی کے سر باندھتے ہیں۔