’’لوگ آج بھی اس مغالطہ میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ کسی ایسے شخص کے رابطے میں آ گئے، جسے جذام تھا – خواہ ۶۰ سال پہلے ہی کیوں نہ رہا ہو – تو وہ بھی اس بیماری کا شکار ہو جائیں گے۔‘‘
نعمت اللہ کی عمر ۷۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ وہ تقریباً چھ دہائی قبل جذام کے مرض سے صحت یاب ہو چکے تھے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا کلنک اب بھی باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے اہل خانہ میری عزت کرتے ہیں، لیکن اپنی اس حالت کی وجہ سے میں دوسروں سے ایسی امید نہیں رکھ سکتا۔‘‘
لوگوں کی کراہت اور ترحم بھری نظروں کی تاب نہ لا کر، انہوں نے بالآخر کپواڑہ میں اپنا گھر اور فیملی کو چھوڑ دیا اور ۲۰۲۵ میں سرینگر کی ’بہرار جذام کالونی‘ میں منتقل ہو گئے۔
’’میں یہاں اس لیے منتقل ہوا کیونکہ یہاں سب برابر ہیں۔ میں اپنے گاؤں میں جس طرح خود کو تنہا محسوس کرتا تھا اب ویسا محسوس نہیں کرتا،‘‘ ۷۶ سالہ نعمت اللہ کہتے ہیں۔ ’’یہ جگہ بالکل اپنے گھر جیسی لگتی ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مرتے دم تک یہیں رہوں گا۔‘‘
















