پٹنہ کی گلیوں سے گزرتی شیشے کی سپار کا چمکدار گنبد نما ڈھانچہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ’’تلواروں سے لے کر ڈھالوں تک، اور یہاں تک کہ تلواروں کے تیز نوک سے گتھے انار [تزئینی]، ہر چیز شیشے سے تراشی گئی ہے،‘‘ نذرِ امام، شہر کی شان یعنی شیشے کی سپار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔
پیچیدہ اور تفصیلی کام سے مزین شیشے کی سپار محرم کے جلوسوں کے دوران پٹنہ میں نظر آتی ہے۔ اس آرائشی ڈھال کا استعمال کسی زمانے میں جنگ کے میدانوں میں ہوتا تھا۔ اس میں ہر طرح کے ہتھیار رکھے جاتے ہیں جن میں تلواریں، ڈھالیں، کمان اور دیگر آرائشی عناصر شامل ہیں۔ انہیں بنانے میں کم از کم ایک درجن دستکاریوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر، پٹنہ سٹی کے جنوبی علاقہ میں، ۴۰ سالہ محمد نثار نے ابھی ابھی اپنے سپار کا کام ختم کیا ہے اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنے ورکشاپ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنی تخلیق کا آخری جائزہ لے رہے ہیں۔ اس نازک کام کو ان کے برآمدے میں رکھا گیا ہے؛ ان کے آس پاس باغ کالو خان کے قدیم علاقے میں واقع چند مکانات ہیں اور ایک مزار ہے۔
’’یہ ایک شخص کا کام نہیں ہے،‘‘ دستکار نثار کہتے ہیں۔ ’’یہ بہت سی فنکارانہ مہارتوں کا امتزاج ہے۔ کچھ کا تعلق بہار سے ہے اور کچھ کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے۔‘‘
انہوں نے آری، زردوزی، کشیدہ کاری، چھاپہ، نگ اور بعض اوقات مینا کاری کی مثالیں پیش کیں۔ یہ سب سپار میں مل سکتی ہیں۔ (آری ایک ایسی تکنیک ہے جس میں کپڑوں پر پیچیدہ ڈیزائنوں کی کڑھائی کے لیے کانٹے دار سوئی کا استعمال کیا جاتا ہے؛ زردوزی میں دھاتی دھاگوں کا استعمال کرتے ہوئے کڑھائی کی جاتی ہے؛ کشیدہ کاری بہار میں کی جانے والی ایک کشمیری طرز کی کڑھائی ہے اور چھاپہ میں کپڑوں پر دھاتی رنگوں سے لکڑی کے سانچوں سے نقش ابھارے جاتے ہیں۔)
سپار میں میناکاری بھی ہوتی ہے۔ میناکاری انیمل پینٹنگ اور کپڑوں پر باریکی سے تراشے ہوئے، آب دار قیمتی پتھروں کے نگ چسپاں کرنے کا ہنر ہے۔



















