سنجیونی انہیں ’ماں‘ کہتا ہے، لیکن وہ اسُنتا کا بیٹا نہیں ہے۔
اسُنتا ٹوپو، دھرم جے گڑھ بلاک کے مریگوڈا میں واقع ذیلی طبی مرکز میں دیہی طبی افسر (آر ایچ او) ہیں، جہاں وہ تقریباً دو دہائیوں سے تعینات ہیں۔ کچھ سال پہلے ان کے سامنے ایک معاملہ آیا جہاں ایک عورت کی زچگی کے دوران حالت کافی خراب تھی۔ اس عورت کا بلڈ پریشر بہت زیادہ تھا اور ہیموگلوبن سات گرام سے بھی کم تھا۔ اسُنتا بتاتی ہیں، ’’جب وہ عورت ہمارے طبی مرکز پہنچی، تب تک اسے درد زہ شروع ہو چکا تھا۔ ہم اسے میز پر لے بھی نہیں پائے تھے کہ بچہ کی پیدائش ہو گئی۔‘‘
ذیلی طبی مرکز (جسے مقامی سطح پر اُپ سواستھیہ کیندر کہا جاتا ہے) میں ڈیلیوری کے بعد بچہ کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اسُنتا بتاتی ہیں، ’’یہاں ہمارے پاس آکسیجن کی سہولت نہیں تھی اور ماں کی حالت بھی اتنی ہی نازک تھی۔‘‘ عورت کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا اور اسُنتا یہ طے نہیں کر پا رہی تھیں کہ پہلے ماں کی دیکھ بھال کریں یا بچہ کی۔
اسُنتا بتاتی ہیں، ’’پہلے ہم انہیں دھرم جے گڑھ لے گئے۔ وہاں ایک ڈاکٹر تھیں، جن کا نام میں نہیں لینا چاہوں گی۔ انہوں نے ناراضگی جتائی اور پوچھا کہ ہم ماں اور بچہ کو اتنی سنگین اور نازک حالت میں ان کے پاس لے کر کیوں آئے؟‘‘ لیکن اسُنتا نے ماں اور بچہ کی صحت کے لیے ڈاکٹر سے بحث کی۔ ’’میں نے ان سے کہا، اگر آپ نہیں کر سکتیں تو رہنے دیجئے۔ بس میری تھوڑی مدد کر دیجئے۔ وہ غصہ ہو گئیں۔‘‘
اسُنتا نے بچہ کو اٹھایا اور ایمبولنس منگائے جانے کی بات کی۔ آخرکار، ڈاکٹر نے ان کی بات مانی اور بچہ کو ایک انجیکشن لگایا۔ اسنتا بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ آئی میتانِن (تربیت یافتہ سماجی طبی کارکن) نے ان کی بہت مدد کی۔ اس نے بچہ کو منہ سے سانس دے کر زندہ رکھنے کی کوشش کی۔











