ہر شاعر کو سامعین کی تلاش ہوتی ہے۔
اس سے پہلے کہ دنیا اس کی تخلیق کا مطالعہ کر سکے، کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو اس کے نغمہ کو سن چکا ہوتا ہے۔ تقریباً ۱۸ سال سے شردھانند اسُر کے گیتوں کے اولین سامعین تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔
’’میں کوئی نغمہ تیار کرتا ہوں تو اتھناس کو سناتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں نے پہلا نغمہ ’ییشو گیت‘ لکھا تھا، اور اتھناس کے لیے لکھا تھا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اپنے دوست اتھناس کی طرف دیکھتے ہیں، اور دونوں دوست زور سے ہنسنے لگتے ہیں۔
شردھانند اور اتھناس جھارکھنڈ کے لوپونگپاٹ گاؤں سے ہیں۔ دونوں ساتھ میں رومن کیتھولک پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے۔ ایک دن شردھانند نے دیکھا کہ اتھناس کافی تناؤ میں ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’اسے اگلے دن اسکول میں باقی بچوں کی طرح گیت گا کر سنانا تھا۔‘‘ اس کے عوض نمبر دیے جانے تھے، جو سالانہ امتحان کے نتیجے میں مدد کرتے۔
دونوں دوست اسُر برادری سے تعلق رکھتے تھے، جو جھارکھنڈ میں خاص طور پر کمزور قبائلی گروپ (پی وی ٹی جی) کے طور پر درج ہے۔ اتھناس کے بائیں ہاتھ کی نمو پیدائشی طور پر نہیں ہو پائی تھی۔ شردھانند بتاتے ہیں، ’’اس وجہ سے لوگ اسے ’لولا یا ٹھوٹھا‘ کہہ کر مذاق اڑاتے تھے۔‘‘














