جب انہیں احساس ہوا کہ وہ مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، تو ان کے پاس اپنے نام پر کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں تھا۔ ان کی بیوی نے انہیں ۱۵ ہزار روپے قرض دیے تھے، جو ایک آدیواسی رہائشی اسکول میں بطور ٹیچر کام کرتی تھیں۔ ان کی پارٹی کے کارکن اپنی بساط بھر جو کچھ کرسکتے تھے، انہوں نے وہ کیا اور انتخابی درخواست جمع کرنے سے قبل ۵۲ ہزار روپے کا چندہ جمع کر لیا تھا۔
ونود نکولے کے لیے حالات اس سے زیادہ ناسازگار نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کے اصل حریف موجودہ رکن قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے)، دَھنارے پاسکل جَنیا تھے، جنہوں نے ۲۰۱۴ میں دہانو اسمبلی حلقہ سے ۱۶۰۰۰ سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے بھی تھا، جس نے اس سال اسمبلی انتخابات میں ۸۲ کروڑ روپے سے زیادہ کے اخراجات کا باضابطہ طور پر اعتراف کیا تھا۔
لیکن جب نتائج کا اعلان ہوا تو وسائل کی کمی آڑے نہیں آئی۔ نکولے تقریباً ۵۰۰۰ سے کچھ کم ووٹوں کے فرق سے رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہو چکے تھے۔
’’میرے کزن بھائی نے مجھے تقریباً ۷۰ ہزار روپے کا قرض دیا تھا۔ انتخابات سے پہلے میرے پاس صرف وہی۷۰ ہزار روپے تھے، وہ قبائلی اکثریتی ضلع پالگھر میں واقع دہانو شہر میں اپنے دفتر کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں۔
یہ کسی ایسے ہندوستان کی کہانی معلوم ہوتی ہے، جو اب موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ سب کچھ حال ہی میں وقوع پذیر ہوا ہے، پہلے ۲۰۱۹ میں اور پھر ۲۰۲۴ میں۔ ایک ایسے دور میں جب بی جے پی ایک کے بعد ایک انتخابات میں اپوزیشن کو روندتی جا رہی ہو، اور سیاست ایک ایسا کھیل بن چکی ہو جس میں پیسے کے بے دریغ استعمال کے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہو، اس دور میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) سے تعلق رکھنے والے ۴۸ سالہ نکولے بڑی آسانی سے اپنی دوسری مدت کار میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہ بھی ایسی ریاست میں، جہاں ۹۳ فیصد ایم ایل اے کروڑ پتی ہیں۔ مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کے لحاظ سے مہاراشٹر ملک کی امیر ترین ریاست ہے۔
دہانو شہر سے چار کلومیٹر کی دوری پر واقع واکی گاؤں میں اینٹ بھٹہ مزدوروں کے گھر پیدا ہونے والے نکولے مہاراشٹر کے سب سے غریب ایم ایل اے ہیں۔ مہاراشٹر ایک ایسی ریاست ہے، جس کو ملک میں سب سے زیادہ انتخابی اخراجات کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ نکولے پولنگ سے قبل نہ تو پیسے بانٹ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کی کوئی بڑی ٹیم کھڑی کرسکتے ہیں۔ ان کا اصل سرمایہ زمین پر موجود رہ کر کام کرنا، نچلی سطح کی عوامی تحریکوں میں حصہ لینا اور عام لوگوں، خاص طور پر قبائلی کسانوں اور مزدوروں کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہنا ہے۔









