پرینکا کماری ایک تیز دوڑ لگانے والی لڑکی ہیں۔ ان کے والد لال دیو اوراؤں اپنی ۱۸سالہ بیٹی کی رفتار کا تذکرہ فخر سے کرتے ہیں۔ ’’بہت تیز دوڑتی تھی بچپن سے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اس مزدور کے چار بچوں میں سب سے بڑی، پرینکا ایس ایس سی جی ڈی (نیم فوجی دستوں کے لیے ہونے والے مشترکہ داخلہ امتحان) کی تیاری کر رہی ہیں۔
’’ہم کو وردی پہننا ہے،‘‘ وہ شرماتے ہوئے کہتی ہیں۔
پریانکا ہر روز ایک ایسے امتحان کے لیے ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں جس کے لیے شاید وہ اب اہل ہی نہ رہیں۔ نیم فوجی دستوں میں بھرتی کے لیے ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ میں فلوروسس کی جانچ کی جاتی ہے، اور ان کے دانتوں پر موجود داغ اور جوڑوں کا درد (دونوں اس بیماری کی علامات ہیں) ان کی نااہلی کا سبب بن سکتے ہیں۔
گزشتہ نومبر سے انہوں نے اپنے گاؤں کے قریب کھلے کھیتوں میں پریکٹس شروع کی تھی۔ انہیں ۵ء۸ منٹ میں ۱۶۰۰ میٹر کی دوڑ مکمل کرنی تھی۔ ’’پہلا دن ہم ۷ منٹ میں ہی دوڑ گئے،‘‘ پرینکا فخریہ لہجے میں بتاتی ہیں۔
لیکن اس پہلی دوڑ کے بعد ہی گھٹنوں میں درد شروع ہو گیا۔ ان کے والد نے درد کش دوا لینے کا مشورہ دیا، جسے انہوں یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ’’اگر میں اسے ایک بار لے لوں گی تو اس کی عادت بن جائے گی۔‘‘ دراصل ان کے آس پاس ہر بالغ شخص ناقابل برداشت درد کی صورت میں درد کش دوا کا سہارا لیتا ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے پلامو ضلع میں اپنی پوری زندگی کے دوران یہی دیکھا ہے۔
چُکرو کے لوگ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق درج فہرست قبائل سے ہے، فلوروسس کا شکار ہیں۔ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے جو پینے کے پانی میں فلورائیڈ کی بہتات کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ فلورائیڈ قدرتی طور پر چٹانوں، مٹی اور زیرِ زمین پانی میں پایا جاتا ہے۔ نائس اور گرینائٹ، جو پلامو کے زمین کی اندرونی چٹانوں کا زیادہ تر حصہ تشکیل دیتے ہیں، فلورائیڈ کے حامل معدنیات سے مالا مال ہیں۔ جب پانی ان چٹانوں کے درمیان سے گزرتا ہے، تو فلورائیڈ رس کر اس میں شامل ہو جاتا ہے۔




























