مغربی دہلی کے پیراگڑھی گاؤں میں رہنے والے ۲۲ سالہ روشن پیشہ سے درزی ہیں، جو اس مسئلہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’گھر کے نل سے کبھی پیلا (زرد)، کبھی نیلا، کالا (سیاہ) یا جھاگ والا پانی آتا ہے۔ پانی سے سیور جیسی بدبو آتی ہے۔ ہم گزشتہ چھ مہینے سے اسی پانی کا استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مسلسل تین دنوں سے پیٹ درد اور بخار سے پریشان ہیں۔ ان کی چار رکنی فیملی میں کوئی نہ کوئی ہمیشہ بیمار رہتا ہے۔
پیراگڑھی، جو کبھی دہلی کے باہری علاقے کا ایک گاؤں تھا، اب یہاں بھی شہرکاری ہو چکی ہے۔ پیراگڑھی میں رہنے والے درجنوں لوگ ہاضمہ کی خرابی یا بخار جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ جون ۲۰۲۴ سے اس علاقہ کے تقریباً ۱۰۰۰ گھروں میں سے ہر ایک کو میونسپل کارپوریشن کی طرف سے بدبودار پانی کی سپلائی کی جا رہی ہے۔
پیراگڑھی کی گلیوں میں کئی چھوٹے بڑے کارخانے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق، تقریباً دو دہائی قبل یہاں بنیادی طور پر پلاسٹک کے سامان بنانے والے کارخانے تھے، لیکن وقت کے ساتھ پینٹ، ڈائی، جوتے، الیکٹرانکس اور موٹر بنانے والی اکائیاں بھی قائم ہو گئیں۔
روشن کے والد بشو ناتھ انھیں میں سے ایک فیکٹری میں دہاڑی مزدوری کرتے ہیں۔ جب وہ ۱۵ سال پہلے بہار سے دہلی آئے تھے، تو پیراگڑھی ان کے لیے سب سے اچھی جگہ تھی، کیوں کہ یہاں انہیں روزگار سے لے کر کھانا اور پانی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب تھیں۔
لیکن اب بشو ناتھ کی فیملی سمیت زیادہ تر گھروں کو پینے کے صاف پانی کے لیے بھی اپنی ماہانہ آمدنی کا تقریباً ۱۰ فیصد، یعنی روزانہ اوسطاً ۱۰ روپے خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔














