سڑک ختم ہونے سے پہلے ہی جی پی ایس سنگل غائب ہو جاتا ہے۔
ناگپور سے جنوب کی سمت میں، ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع بھنسولی (ساوَنگی) گاؤں کے باہر تارکول کی ایک پتلی سڑک آگے ایک دھول بھرے راستے میں گم ہو جاتی ہے، اور کپاس اور مٹر کے کھیتوں سے ہو کر گزرتی ہے۔
وہاں، کِرسَن جگمال رباری (۴۵) ایک موٹر سائیکل پر انتظار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی چار پہیہ گاڑی کو یہیں چھوڑنا پڑے گا۔ ان کے قافلہ میں تقریباً ۲۵۰۰ بھیڑ اور بکریاں ہیں، جنہوں نے اس راستے میں آنے والی ایک چھوٹی سی ندی کو پار کیا ہے۔ اب ان کے پاس کار سے پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب، کرسن کے لگاتار سفر کرنے والے ڈیرہ میں شامل چار کنبے آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان کی ضروریات کے معمولی سامان، جیسے چارپائیاں، اسٹیل کے برتن، کپڑوں کے گٹھر، پانی کے گھڑے، رسیاں، جال، اور بکسے دھات کی دو بیل گاڑیوں پر لدے ہوئے ہیں، جنہیں مضبوط بیل کھینچ رہے ہیں۔ ان بیل گاڑیوں کو عورتیں ہانک رہی ہیں، جو تین جاموں – چولی (بلاؤز)، گھاگھرا (اسکرٹ)، اور لُڈکی (پردہ کے لیے استعمال ہونے والی اوڑھنی) – پر مشتمل اپنی روایتی پوشاک میں ملبوس ہیں۔ بھیڑ بکریوں کے چھوٹے بچے ممیا رہے ہیں، جب کہ کتے کا ایک بچہ رسی کو کھینچ رہا ہے، شاید وہ ریوڑ کو سنبھالنے کی مشق کر رہا ہے جو اسے آگے جا کر کرنا ہے۔
کارواں روانہ ہو چکا ہے۔












