کرن گہلا (۵۴ سالہ) اور ان کے جیسے دیگر کئی آدیواسی کسانوں کے جذبات بالکل ایک جیسے ہیں۔
کل، یعنی ۱۹ جنوری، ۲۰۲۶ کو وہ پالگھر ضلع میں واقع ڈولھاری بُدرُک گاؤں سے لال رنگ کی ٹی شرٹ پہنے اور رومال لپیٹے اپنے چھوٹے سے گھر سے باہر نکلے۔ وہ چند آدیواسی کسانوں کے ساتھ وہاں انتظار کر رہے ایک ٹیمپو ٹرک میں سوار ہوئے اور چاروٹی گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے مہاراشٹر کی آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے ذریعہ ایک بار پھر ایک بڑا مارچ نکلنے والا تھا۔
یہاں ہزاروں کسانوں کا مجمع ہے۔ میڈیا کی رپورٹوں اور اے آئی کے ایس کے تخمینہ کے مطابق، ان کسانوں کی تعداد شاید ۵۰ ہزار یا اس کے آس پاس ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر پالگھر ضلع کے رہنے والے ہیں اور قبائلی برادریوں سے ان کا تعلق ہے۔ انہوں نے کلکٹریٹ کی جانب اپنا مارچ شروع کیا تھا، ان مطالبات کے ساتھ کہ زمینی حقوق کو بہتر طریقے سے نافذ کیا جائے، منریگا کو بحال کیا جائے، واڑھ وَن بندرگاہ کو منسوخ کیا جائے اور پینے اور سینچائی کے لیے پانی مہیا کرایا جائے۔











