’’اس نے اپنے دانت کے ایک وار سے سات تھیلوں کے اناج کو برباد کر دیا۔‘‘
ایک سال کا وقت گزر چکا ہے، لیکن رامپارا کو دَمپارے ہنگپوئی گاؤں میں واقع اپنے گھر میں تنہا ہتھنی کے ذریعہ کیا جانے والا نقصان یاد ہے۔
اناج کی سات بوریاں ٹِن کے پانچ ڈبوں کے برابر سرسوں سے بھری ہوئی تھیں، جن کا کل وزن تقریباً ۱۰ سے ۱۲ کلوگرام تھا۔ یہاں میزورم میں ٹن کے ڈبے روایتی طور پر میزان یا خوراک ذخیرہ کرنے والے تھیلوں کے وزن کے لیے بطور پیمانہ استعمال میں لائے جاتے ہیں۔
’’ہتھنی کے منہ لگانے کے بعد سرسوں اب خراب ہو چکی ہے،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔ اس نے اپنے سونڈ کے زور سے بانس سے بنے ان کے نگرانی شیڈ کے اندر ذخیرہ شدہ دھان کو بھی تباہ کر دیا۔
لیکن ۷۳ سالہ رامپارا درگزر کرنے والے انسان ہیں۔ ’’میونگ [ہتھنی] اچھی ہے۔ اس نے کبھی انسانوں پر حملہ نہیں کیا۔ وہ زیادہ سے زیادہ فصلوں کو تباہ کرتی ہے۔ کھانے کے لیے آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔‘‘ رامپارا ایک کسان اور بانس کی اشیاء بنانے والے دستکار ہیں۔ ان کا تعلق ریانگ قبائلی برادری سے ہے۔
وہ پاری کو بتاتے ہیں کہ ہتھنی شرمیلی ہے۔ ’’جب بھی یہ انسانی آواز سنتی ہے تو اپنے لمبے کان نیچے جھکا لیتی ہے۔‘‘ اور اب اس کے کھیتوں کے دورے کم ہو گئے ہیں – ۲۰۲۲ اور ۲۰۲۳ میں تین یا چار دوروں سے، ۲۰۲۴ میں دو اور ۲۰۲۵ میں صرف ایک رہ گئے ہیں۔















