آج کل میری مادری زبان کے الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ مجھے پرندوں، ہرنوں، موروں، گایوں، بکریوں کی زبان چاہیے۔ مجھے درختوں، ہوا، پانی، ندی، پہاڑ، زمین، بے نام پھولوں، جگنوؤں، جھینگروں سے حروف تہجی مستعار لینی ہے۔ لیکن وہ تو مر رہے ہیں۔ کیا مرنے والوں کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے؟ کیا ان کے پاس بھی الفاظ ہوتے ہیں؟ مجھے موت کا تعاقب نہیں کرنا ہے؛ روزانہ میری ملاقات اس سے ہو جاتی ہے۔ اجڑے ہوئے لوگوں کی موت۔ بھوک، قحط، سیلاب، جنگلات کی کٹائی اور تباہی، امتیازی سلوک، بلڈوزر، اور بموں سے ہونے والی موت۔ لیکن میرے ہاتھ خالی ہیں۔ مرنے والوں کی نہ کوئی آواز ہے، نہ الفاظ۔ ان میں صرف ایک بو ہے، جیسے مخفی گناہوں کی بو ہو۔ ہر جانب پھیلی ہوئی بو جس کے متعلق میں کوئی بات نہیں کرتی۔ لیکن اب یہ بو ان ماسکوں میں سرایت کر جاتی ہے، جسے ہم نے وبا سے تحفظ کے لیے پہن رکھا ہے۔ میں اپنی کہانیاں سنانے سے قاصر ہوں، میں مر رہی ہوں۔ میری زبان کی تلاش ختم نہیں ہوئی ہے اور میں کچھ ادھ کٹی نظمیں تحریر کر رہی ہوں:

Jalpaiguri, West Bengal
|THU, SEP 25, 2025
کیا مرنے والوں کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے؟
ایک شاعرہ زبان کے خاتمہ کا ماتم کر رہی ہیں۔ یہ خاتمہ زندگیوں، معاش، آب و ہوا، اور وہ دنیا جسے ہم کبھی جانتے تھے، کے ساتھ ساتھ کئی دیگر نقصانات کے ساتھ ہوا ہے۔ اور یہ سب کچھ لالچ اور طاقت کی قربان گاہ پر وقوع پذیر ہو رہا ہے
Author
Illustration
Editor
Translator
۱۔ مچھلیاں کہاں گئیں؟
ہمیں اور چاہیے، اور زیادہ
انتہائی حد تک زیادہ،
بے حد و بے حساب،
لامحدود حد تک زیادہ۔
مچھلیاں کہاں گئیں ساری؟
اپنے قبیلہ کا آخری ماہی گیر، بشنو
خوابوں میں دیکھتا ہے تالاب
اور ہر شب
اونچی عمارتوں کی سمت نکل جاتا ہے
ان پر لعنت بھیجنے۔
زمین پر رکھ کر اپنے کان وہ
سنتا ہے عمارتوں کے نیچے دبی مچھلیوں کی آہ،
جو مر رہی ہیں کائی کی افراط سے۔
دھکیلتا ہے وہ ستونوں کو اپنے ہاتھوں کے لہو لہان ہونے تک،
اور سانس ہو جاتی ہے اس کے جسم سے بے نیاز۔
صبح، راہگیروں کو ملتی ہے اس کی لاش۔
ماہی گیر دیوانہ تھا، اس کا ماتم دار کوئی نہیں۔
ماتم کے لیے شرط ہے
طبقاتی درجہ بندی کی بلندی۔
بشنو کا کوئی نہیں۔
کوئی نہیں روتا،
اس کے ہاتھ میں ہے صرف دو مٹھی ریت۔
۲۔ میرے گاؤں کا شکستہ ماحولیاتی نظام اور مردہ گدھ
سسس سس…
ہم شکستہ قواعد ہیں۔
دودھ چاہیے تھا تمہیں،
تم نے اپنی گایوں کو ڈیکلوفیناک پلایا
توڑ دیا تم نے جملہ:
ماحولیاتی نظام کا۔
اب، ہم سب مردہ ہیں۔
اور تم بھی تعفن ہو ہماری طرح
گایوں کی سڑی لاشیں
تمہاری بو کی یادداشت کا تعاقب کرتی ہیں۔
کون مرا ہے؟ کس کی موت واقع ہوئی ہے؟
قواعد – جملہ – ماحولیاتی نظام؟
اس تعفن میں آباد رہو، بھائیو۔
(مردہ گدّھوں کی آواز رک جاتی ہے)
۳۔ مینڈک کہاں گئے؟
نیم شب کی آہ وزاری
ٹر ٹر کی شکستہ آواز
آم کی لکڑی کی چارپائی اور
مینڈکی کے لیے ایک مینڈک کی سرد آہ -
اچھے دنوں کی ہوس میں سب کھو دیے ہیں ہم نے۔
بے یار و مددگار زندگی کے تعاقب میں تھکی ہوئی روح
اور خالی پیٹ
صبح کی لذت سے بے نیاز۔
چارپائی کا ڈھانچہ اکھڑ چکا ہے۔
مینڈک سب مر چکے ہیں۔
کرم کش ادویات بن رہی ہیں
بارش میں مزید جھاگوں کا سبب۔
ایک میگا سٹی کی بستی میں
ایک سیلن زدہ ناقص کمرے کا دروازہ
ابھی تک کھلا ہے،
جمیلہ کی آنکھیں خالی اور بوجھل ہیں۔
ان دنوں کوئی گاہک نہیں آتا۔
اس کی ماں نے نظریں پھیر لی ہیں۔
دور آسمان سے
اس کی آنکھوں میں ایک سیاہ بادل کا ٹکڑا اتر آیا ہے۔
۴۔ درخت ایک چڑیل ہے
انہوں نے چڑیل سمجھا اس درخت کو
بنتی ہے جس سے سیاہ تختی۔
پہلے ڈالیاں کاٹیں
اور پھر رقص کیا اس کے گرد۔
جسم پر اس کے ضیافت کا سامان کیا
تنے کو جلایا،
ٹانگیں، بیج، بیضہ دانی سب۔
سب ختم، سب راکھ کا ڈھیر۔
گھر واپسی پر قتل کر دیا
اس عورت کو بھی۔
عورت، جس نے سوالات کیے
درخت، گدھ
اور زبانوں سے متعلق۔
1. Where did the fish go?
We want more, more
devastatingly more,
more without limits,
more - the infinite.
Where did all the fish go?
Bishnu - the last fisherman of his clan
sees ponds in his dreams
and every night
he walks to the high-rise apartments
and curses them.
He keeps his ears to the ground
hears the trapped fish under the buildings,
dying of eutrophication.
He pushes the pillars off until his hands begin to bleed,
and he feels hypoxemic.
In the morning, passers-by find him dead.
No one cries for a mad fisherman.
To be cried upon
one needs to be high on the class hierarchy
Bishnu has none.
No one cries,
only in his hand, he has two fistfuls of sand.
2. The broken ecosystem and the dead vultures of my village
Hisss hisss hisss…
We are the broken grammar
You needed milk,
you fed your cows diclofenac
You broke the sentence:
Eco-system.
Now we're all dead
and you are stinking like us
Decomposed bodies of cows
Follow your memory of the smell
Who is dead? Who is dead?
Grammar - Sentence - Ecosystem?
Rest in stink brothers.
(The chorus of the dead vultures stops)
3. Where did the frogs go?
The midnight moaning
and the creak creak of a decaying
mango wood cot and
the croaking of the frog for a she-frog -
we lost all in our lust for good days.
The tired soul of jobless pursuit
and empty stomachs
are listless in early morning's pleasure.
The cot has lost its skeleton.
The frogs are all dead.
The rains are fermenting more foams
of pesticides.
In the basti of a megacity
the door of a damp shoddy room
is unlatched still,
Zamila's eyes are vacant and droopy.
No customer these days.
Her mother has turned her gaze
away from the sky,
a dark cloud hovers in her eyes.
4. The tree as a witch
They deemed the blackboard tree
as a witch.
They first cut down its wings
and then danced around it.
They feasted upon body
and then burnt down the trunk,
the legs, the seeds, the ovaries.
They were done.
Upon returning home they killed
the woman too.
The woman who asked questions
about the tree, the vultures
and the tongues.
ترجمہ نگار: شفیق عالم
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/the-language-of-the-fish-frogs-and-a-few-fractured-poems-ur

