اپنی پھوس کی جھونپڑی کے باہر بیٹھ کر۴۸ سالہ گومتی ویرایَن صبح سویرے اپنی فیملی کے لیے جلدی جلدی کھانا تیار کرتی ہیں۔ یہ انّا نگر کا ایک جانا پہچانا منظر ہے۔ انا نگر، تانڈ وَنکولم گاؤں کی ایک دلت بستی ہے جو سِرکاڑی تعلقہ، مئیلاڈوتورئی ضلع میں واقع ہے۔ یہاں سے پڑیہار چھ کلومیٹر دور ہے۔ محلہ کی زیادہ تر خواتین کی طرح، گومتی کا دن صبح چار بجے سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ ان کے صبح کے معمولات میں قریبی نل سے پینے کا پانی لانا، چھوٹے سے گھر کی صفائی کرنا، اور لکڑی کے چولہے پر کھلے میں کھانا پکانا شامل ہے۔
’’گیس سلینڈر دستیاب ہے، لیکن یہ سستا ہے،‘‘ گومتی چولہے پر چڑھے کھانے کو مشاقی سے ساتھ چلاتے ہوئے کہتی ہیں۔ جب تک وہ اپنے شوہر، ساس اور بیٹے کے لیے ناشتہ اور دوپہر کا کھانا تیار کرتی ہیں، ان کے اپنے کھانے کے لیے وقت نہیں بچتا ہے۔
وہ جلدی سے پڑیہار پہنچتی ہیں، جہاں وہ اس ماہی گیری بندرگاہ پر فش ڈرائر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے کام کا انحصار ندیوں کے بہاؤ اور چاند کے مراحل سے طے ہوتا ہے۔ اسی سے ان کے دن کی شروعات ہوتی ہے اور اسی سے دن کا اختتام ہوتا ہے۔
خواتین ایک ایک کرکے اپنے گھر کے کام نمٹاتی ہیں اور جزر (لو ٹائیڈ) کے وقت ندی کے کنارے پہنچ جاتی ہیں۔ اگر پڑیہار میں مچھلیاں خشک کرنا بھی ان کے کام میں شامل ہے، تو وہ بس میں سوار ہونے کے لیے آٹھ بجے تک قریبی بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے نظام الاوقات کا انحصار مد و جزر پر ہوتا ہے۔ ’’پڑیہار ہمارے لوگوں کے لیے زندگی کی لکیر ہے! یہاں کے آس پاس کے گاؤوں کے لیے سب کچھ ہے،‘‘ پڑیہار ماہی گیری بندرگاہ کی فش ڈرائر گومتی کہتی ہیں۔
پڑیہار ماہی گیری بندرگاہ کُولّیڈَم ندی کے دہانے پر واقع ہے، جہاں یہ خلیج بنگال میں ملتی ہے۔ یہ بندرگاہ، مئیلاڈوتورئی ضلع (۲۰۲۰ میں ناگ پٹینم ضلع سے الگ ہوا) میں واقع ہے، اور تمل ناڈو میں ماہی گیری کے ۱۲ بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بندرگاہ قریبی گاؤں سے آنے والے ان ہزاروں مزدوروں کا سہارا ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے مچھلیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
گومتی ویراین، پڑیہار ماہی گیری بندرگاہ پر کئی سالوں سے مچھلیاں خشک کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ ’’خواتین کی زندگیاں بندرگاہ کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں،‘‘ گومتی بتاتی ہیں۔ ’’ہم یہیں پیدا ہوئے، ہم نے یہیں شادی کی، اور ہم اپنی زندگی یہیں گزارتے ہیں۔ پہلےہم کھیتوں میں کام کرتے تھے، دھان، باجرا اور دالیں اگاتے تھے۔ لیکن اب کھیتی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یا تو بہت زیادہ بارش ہوتی ہے، یا بالکل نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے فصلیں خراب ہو جاتی ہیں۔‘‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’میں ۱۵ سال کی عمر سے ندی میں اتر کر اپنے ہاتھوں سے جھینگا (کریڈیا) پکڑتی آ رہی ہوں۔ میری والدہ اور ساس نے بھی یہ کام کیا تھا،‘‘ اور مزید کہتی ہیں، ’’میں نے حاملہ ہونے کے دوران بھی یہ کام کیا ہے، اور اس آمدنی سے اپنے بچوں کی تعلیم میں مدد بہم پہنچائی ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، میں جھینگے پکڑتی رہوں گی۔‘‘
بندرگاہ سے چھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ان کے علاقہ کی ۲۰ سے زائد خواتین اس کام میں مصروف ہیں۔ ’’خواتین کام پر جانے کے لیے صبح ۶ بجے کی بس پکڑتی ہیں۔ ہم جھینگے، مچھلی اور سکویڈ کو چار یا پانچ بار صاف کرتے ہیں، نمک لگاتے ہیں، محفوظ کرتے ہیں اور خشک کرتے ہیں، ہر نوع کو الگ الگ پروسیس کیا جاتا ہے اور بنڈل بنایا جاتا ہے،‘‘ پارئیر (ریاست میں درج فہرست ذات کے طور پر درج) برادری کی رکن گومتی کہتی ہیں۔




















