’’پانی سے بدبو آتی ہے، لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟‘‘
جب سورج غروب ہونے لگتا ہے، تو بچہ دیوی دہلی میں دریائے یمنا میں غوطہ لگانے کے لیے تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ وہ کالندی کنج گھاٹ پر موجود نوئیڈا، دہلی اور فرید آباد سے آئے ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو نومبر کے پہلے ہفتہ میں سورج، پانی، ہوا اور فطرت سے منسوب سالانہ تہوار، چھٹھ مہا پرو منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ’’ہمارے لیے چھٹھ سب سے بڑا تہوار ہے، دیوالی سے بھی بڑا،‘‘ راجیش منڈل (۴۵ سالہ) کہتے ہیں، وہ بہار کے کھگڑیا سے ہجرت کرکے دہلی آئے ہیں۔
چار روزہ چھٹھ پوجا کے تیسرے اور سب سے مقدس دن – سندھیا ارگھیہ – کو شادی شدہ خواتین کمر تک گہرے پانی میں دو گھنٹے تک کھڑے ہوکر غروب ہوتے سورج کی پوجا کرتی ہیں۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں مقیم عقیدت مندوں کے لیے خطرناک حد تک آلودہ یمنا ندی ہی واحد متبادل ہے۔



















