’’دلہن کی ماں نے صاف کہہ دیا ہے کہ مجھے صرف ہاتھ سے بُنی ہوئی کچھ دؤریاں ہی تحفے میں دینی ہیں،‘‘ چندراوتی دیوی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’ہم مہنگے تحفے نہیں دے سکتے، لیکن ہماری روایت میں یہی تحفہ ہوتا ہے،‘‘ ان کا اشارہ اپنی بھانجی کی جلد ہی ہونے والی شادی کی طرف ہے۔
چندراوتی دیوی (۴۵)، جو بنیا چھاپر گاؤں کی رہنے والی ہیں، سوکھی مونج کی گھاس سے دؤری بنانے میں ماہر ہیں۔ یہ ہاتھ سے بنائی گئی دؤریاں دلہنوں کو تحفے میں دی جاتی ہیں اور شادی کی رسموں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے۔ چندراوتی کھیتی باڑی کرتی ہیں اور ان کے پاس آدھا بیگھہ کھیت ہے۔ اپنے خالی وقت میں وہ دؤری بُنتی ہیں۔
دؤری ایک ضروری اور کثیر الاستعمال سامان ہے۔ ’’ہمارے پاس اناج، مٹھائی، آٹا یا سبزیاں رکھنے کے لیے الماری نہیں ہے۔ ہم ان سامانوں کو دؤری میں ہی رکھتے ہیں،‘‘ چندراوتی کی ۱۸ سال کی بیٹی پُشپا کہتی ہے۔
بہار کے گوپال گنج ضلع میں واقع ان کے گھر میں مونج کی گھاس کے گٹھر دیواروں کے سہارے رکھے گئے ہیں۔ دسمبر کا مہینہ ہے اور اس جنگلی گھاس کو ابھی ابھی اکٹھا کیا گیا ہے، جسے گرمیوں کی دھوپ میں سُکھایا جائے گا۔














