’’شل کٹا-ؤ-ؤ-ؤ!‘‘
لال بابو مہتو کی تیز، تیکھی آواز گریا میں گونجتی ہے، جو شمالی سونار پور کے پاس ایک جگہ ہے۔ دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں، اور ان کی آواز کے علاوہ یہاں کولکاتا کے اس حصہ میں قریب کے بازار سے آتی تھوڑی بہت آوازیں ہی سنائی دیتی ہیں۔
’’شِل کٹا-ؤ-ؤ-ؤ!‘‘ گلی میں تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ پھر آواز لگاتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ کوئی گاہک مل جائے گا جو اپنے شِل نورا پر نقاشی کروانا چاہتا ہو۔ بنگال میں شِل کٹاؤ، گرینائٹ کے پتھر – شِل – اور ہاتھ میں پکڑے جانے والے پیسنے کے اوزار – نورا پر ڈیزائن کندہ کرنے کا روایتی کام ہے۔ شِل نورا، سِل بٹّہ یا تمل امّی کلّو کی ایک شکل ہے، جس کا استعمال ثابوت مسالوں کو گیلے، خوشبودار پیسٹ یا پاؤڈر میں بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو ہندوستان میں کھانا بنانے کا ایک مرکزی حصہ ہے۔ ہندوستانی باورچیوں کا ماننا ہے کہ جب نورا کا مضبوط دباؤ سخت شِل پر پڑتا ہے تبھی پتّے اور مسالے اپنا اصلی ذائقہ چھوڑتے ہیں۔
’’اس کا بنیادی کام مسالے کو اور باریک بنانا ہے۔ کوئی بھی جدید مکسر آپ کو ویسی باریکی اور ذائقہ فراہم نہیں کر سکتا،‘‘ باورچی خانہ کے اس اہم اوزار کے بارے میں لال بابو کی یہی حتمی رائے ہے۔
’’اب بہت کم نئے لوگ شِل کٹاؤ کو پیشہ کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ ہم ہی آخری نسل ہیں،‘‘ بہار کے سیوان ضلع سے آئے مہاجر مزدور لال بابو کہتے ہیں۔ ’’تقریباً ۱۰ سال قبل جب میں یہاں آیا تھا تب صرف کِھدِر پور میں ہی ہم تقریباً ۲۵۰ لوگ تھے۔ اب زیادہ تر بوڑھے ہو چکے ہیں۔ وہ اس کام کو چھوڑ چکے ہیں اور اتنی محنت والے کام کو مزید کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔‘‘












