ایک تالاب جسے بوڑو کالی باڑیر دِگھی کہا جاتا ہے، شیو کے ایک عظیم الشان مجسمہ کے گرد پھیلا ہوا ہے۔ شیو کا یہ مجسمہ تریپورہ کے اس غیر مانوس قصبہ دھرم نگر کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ شہر کی بھاگ دوڑ بھری زندگی کے درمیان یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح ہر شام سکون کی تلاش میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ انجنوں کے شور، گاڑیوں کی سیٹی، اور بھیڑ کی گہما گہمی کو چیرتی ہوئی یہاں اکثر ایک پُرسکون اور دل آویز دھن سنائی دیتی ہے، جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
اپنی عمر کی ۶۰ کی دہائی میں پہنچ چکا ایک شخص جھیل کے کنارے بیٹھا ایک لمبی گردن والے طنبورہ نما ساز پر ایک مقبول لوک گیت کی دھن بجا رہا ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ وہ ایک ہاتھ سے تاروں کو چھیڑتا ہے، اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو پتلے فنگر بورڈ پر پھیرتا ہے۔ اس کے ارد گرد جمع ہونے والے چند متجسس لوگ نہ تو اس کے ساز کو پہچانتے ہیں نہ راگ کو، اور نہ ہی مالی برادری سے تعلق رکھنے والے اس فنکار کو۔ خیال رہے کہ مالی برادری کو تریپورہ میں درج فہرست ذات کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
لیکن محض ۱۵ کلومیٹر دور شمالی تریپورہ ضلع کے کدم تلّا بلاک کے تحت آنے والی سرلا گرام پنچایت میں ہر شخص رتیش مالاکار کو ’دوتارا نواز‘ کے طور پر پہچانتا ہے۔













