وہ اپنی پرانی ہو چکی وھیل چیئر کو اپنے پاس کھینچتے ہیں، جو اسپتال میں ان کے بستر کے سامنے رکھی ہے۔ وہ ان دنوں اسپتال کے اسی بستر سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ان کا بایاں ہاتھ چھت کی لکڑی کی بلّی سے لٹک رہے کھردرے کپڑے کو پکڑتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے جسم کو موڑتے ہوئے وہ خود کو بستر سے آہستہ آہستہ کھسکتے ہوئے وھیل چیئر پر پہنچتے ہیں۔ پھر وہ اپنے پیروں کو نیچے کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں کو تب تک سنبھالتے ہیں جب تک کہ ان کے پیر وھیل چیئر کی فوٹ پلیٹ تک نہیں پہنچ جاتے۔ جس مہارت سے وہ یہ سب کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انہوں نے یہ کام ہزاروں بار کیا ہے۔ ٹھیک اسی آسانی کے ساتھ جیسے وہ کبھی بلیگیری رنگن پہاڑیوں کے جنگلوں میں اونچے درختوں پر چڑھ جایا کرتے تھے جب تک کہ …ان کے ساتھ وہ حادثہ نہیں ہوا۔


Chamarajanagar, Karnataka
|THU, MAR 19, 2026
بی آر پہاڑیوں نے روک دی سولیگا آدیواسی کی پرواز
کرناٹک کی بلیگیری رنگن پہاڑیوں میں اونچے درختوں سے شہد اکٹھا کرنے والا ایک نوجوان سولیگا آدیواسی ایک بڑے حادثہ کے بعد گویا اپنی زندگی کا گیت کھو بیٹھا ہے
Author
Editor
Photo Editor
Translator

M. Palani Kumar
’’شام کے تقریباً چھ بجے تھے۔ بارش ہو رہی تھی۔ درخت کی چھال پھسلن بھری تھی۔ تارے مرا [ٹرمنالیا بیلیریکا] پر ایک بڑا چھتّہ تھا۔ اسے کاٹنے کے لیے میں اس کے پاس کھڑے ہونّے مرا [پٹیروکارپس مارسوپیئم] پر چڑھ گیا تھا۔ یہ بہت بڑے درخت ہوتے ہیں، بہت اونچے پیڑ۔‘‘ ارون کمار جن درختوں کی بات کر رہے ہیں، وہ تقریباً ۱۳۰ فٹ تک اونچے ہو سکتے ہیں۔
’’میرے ہاتھ میں دھوئیں والی مشعل تھی، لیکن شہد کی مکھیاں مجھے ڈنک مار رہی تھیں اور میں جلدی نیچے اترنا چاہتا تھا۔ اچانک میرا پیر پھسل گیا اور میں تقریباً ۲۵ فٹ نیچے زمین پر پیٹھ کے بل گر پڑا۔‘‘ وہ ۱۲ مئی، ۲۰۲۴ کی اس منحوس شام کو یاد کر رہے ہیں، وہ دن جب وہ اپنے پیروں پر آخری بار کھڑے تھے۔
ارون اپنی پرانی وھیل چیئر کو اپنے ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے آٹھ ضرب دس فٹ کے ٹن کے چھوٹے کمرے کے دروازہ سے باہر نکلتے ہیں۔ اندر اندھیرا ہے، بس دروازہ سے تھوڑی سی روشنی آ رہی ہے۔ یہ کمرہ اس اینٹ اور مٹی کے گھر کے ایک کنارے تقریباً چھپا ہوا ہے جہاں ان کی فیملی کے دیگر لوگ رہتے ہیں۔ دوسری طرف ستونوں پر بنے کبوتر خانے ہیں، جن میں ان کے والد کے پالے ہوئے کچھ کبوتر رہتے ہیں۔

Pratishtha Pandya

M. Palani Kumar
ارون (۲۴) کہتے ہیں، ’’مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ صبح میں خود ہی اس کمرے سے باہر نکل کر دھوپ میں بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘ وہ اپنی کرسی کمرے کے پیچھے کی چھوٹی کھلی جگہ کی طرف موڑتے ہیں۔ وہاں سلور اوک کے درختوں کی شاخوں کے درمیان سے دھوپ ابھی ابھی اتر رہی ہے۔
عام طور پر سال کے اس وقت تک ارون ان درختوں کی اوپری شاخیں کاٹنے میں فیملی کی مدد کرتے تھے، تاکہ کافی کے پودوں تک دھوپ پوری طرح پہنچ سکے۔ اس سال فیملی کو مزدور رکھنے پڑے ہیں۔ مزدوری مہنگی ہونے کے سبب درخت ویسے ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔
ارون دھیرے دھیرے سردیوں کی دھوپ میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’’موسم کے دوران کچھ کمانے کے لیے میں شہد اکٹھا کرتا تھا۔ یہ کام اپریل سے جون کے درمیان صرف پانچ چھ ہفتوں تک چلتا ہے۔ گرمیوں میں باہر کوئی کام نہیں ملتا تھا۔ گھر میں بھی پیسوں کی قلت تھی۔ اس لیے ہم چار پانچ دوستوں نے مل کر تھوڑا کمانے کے لیے یہ کام شروع کیا۔‘‘ یہ چھوٹی چھوٹی کمائی ان کے گھروں کا خرچ چلانے میں مدد کرتی تھی۔

Courtesy: Arun
ارون کہتے ہیں، ’’مجھے دوستوں کے ساتھ گھومنا اچھا لگتا تھا، لیکن کلاس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے اس پر زیادہ دھیان نہیں دیتا تھا۔ میں نے ساتویں جماعت میں ہی پڑھائی چھوڑ دی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’میں نے دوسرے بچوں کو دیکھ کر درختوں پر چڑھنا اور شہد نکالنا سیکھا۔ شروع میں ڈر لگتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ عادت ہو گئی۔ لوگ عام طور پر ’جینو کوئیو ہاڈو‘ گاتے ہوئے درختوں کی طرف جاتے ہیں۔ میں نے وہ گیت کبھی نہیں سیکھا۔‘‘ سولیگا برادری کے لوگ روایتی طور پر شہد اکٹھا کرنے کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن ارون کے والد ایم سنّ رنگے گوڈا (۵۳) نے طویل عرصے تک یہ کام نہیں کیا۔
گوڈا، چامراج نگر ضلع میں کسان اور برادری کے سرگرم کارکن ہیں۔ سال ۱۹۷۰ کی دہائی میں حکومت نے سولیگا آدیواسیوں کو جنگل کے اندر بنی چھوٹی بستیوں یعنی پوڈو میں بسنے اور جھوم کھیتی چھوڑنے کے لیے آمادہ کیا۔ ان کی فیملی ۱۹۷۴ سے ییلندور تعلقہ کے مُتّوگد گڈّو پوڈّو میں ملی دو ایکڑ زمین پر کھیتی کر رہی ہے۔

Courtesy: Arun
گوڈا کہتے ہیں، ’’ہم اوریکائی (سیم کی پھلی)، جولا (جوار)، توگری (تور) اور راگی جیسی فصلیں اُگاتے تھے۔ لیکن ہاتھیوں اور جنگلی سؤروں نے ان فصلوں کو برباد کر دیا۔ اس لیے ۱۹۹۰ کی دہائی میں ہم نے کافی کی کھیتی شروع کر دی۔‘‘
اسکول چھوڑنے کے بعد ارون اپنے والد کی کھیتی میں ہاتھ بٹانے لگے۔ وہ پودے لگانا، شاخیں کاٹنا، کھیت کی صفائی کرنا، نرائی کرنا اور کافی کی پھلیاں توڑنے جیسے کام کرتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے موٹے کام کر کے کمانے کی کوشش بھی کی۔ وہ کہتے ہیں، ’’جو بھی کام ملتا تھا، کرتا تھا – جیسے درخت کاٹنا، لکڑی کاٹنا، شہد اکٹھا کرنا، پاچی یعنی لائکین جمع کرنا۔ کچھ دنوں میں ۱۰۰۰ روپے تک مل جاتے تھے، لیکن کمائی کبھی باقاعدہ نہیں رہی۔‘‘
سماجی کارکن اور سولیگا برادری کے پہلے پی ایچ ڈی محقق ڈاکٹر سی مادے گوڈا کہتے ہیں، ’’نوجوان سولیگا لوگوں کو باہر کام نہیں ملتا۔ ان کے پاس دوسرا ہنر نہیں ہے اور پڑھائی بھی نوکری کی گارنٹی نہیں دیتی۔‘‘
محض ۱۸ سال کی عمر میں ارون کام کی تلاش میں باہر جانے لگے۔ پہلے وہ بنگلورو میں تعمیراتی مزدور کے طور پر کام کرنے گئے اور بعد میں کرناٹک اور کیرالہ کے کافی اور کالی مرچ کے باغات میں کام کیا۔ فصل کاٹنے کے بعد وہ مارچ اپریل میں گاؤں لوٹ آتے تھے۔
انہی مہینوں میں ان کے گاؤں میں شہد اکٹھا کرنے کا موسم شروع ہوتا ہے۔

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
ارون کہتے ہیں، ’’ہر بار جنگل جانے پر چھتّے نہیں ملتے۔ اور پورے موسم میں روز بھی جنگل نہیں جاتے۔ مہینہ میں چار پانچ بار ہی جاتے ہیں۔ صبح ہم تقریباً ۱۵ کلومیٹر کے دائرہ میں جا کر جینو گڈو یعنی شہد کی مکھیوں کے چھتّے دیکھتے تھے، پھر گھر لوٹ آتے اور شام کو شہد نکالنے واپس جاتے۔ لیکن کئی بار ہم جنگل کے مزید اندر چلے جاتے تھے اور دو تین دن کا کھانا ساتھ لے جاتے تھے۔‘‘
ان کی کمائی اس بات پر منحصر تھی کہ کتنے اور کتنے بڑے چھتّے ملتے ہیں۔ ایک بار میں وہ ۶۰ سے ۷۰ کلو تک شہد اکٹھا کر لیتے تھے۔ گھر لوٹنے کے بعد شہد کو صاف کپڑے کی جالی سے چھان کر ڈبوں میں بھرتے تھے۔ پھر اسے ایک ایجنٹ کو ۲۰۰ سے ۳۰۰ روپے فی کلو کے حساب سے بیچتے تھے اور پیسہ آپس میں برابر تقسیم کر لیتے تھے۔
ارون اُس حادثہ والے دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میرے ساتھ میرے تین دوست تھے۔ گرنے کے بعد میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ لیکن میں پیٹھ کے بل زمین پر گرا تھا اور درد ناقابل برداشت تھا۔ میری ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ میں حرکت بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی، اس لیے میرے دوست گھنٹوں میرے ساتھ وہیں رہے اور جنگلی جانوروں سے بچنے کے لیے آگ جلا کر بیٹھے رہے۔ صبح گاؤں کے لوگ آئے اور پھر ایمبولینس سے مجھے اسپتال لے جایا گیا۔‘‘ یہ اسپتال پاس کا وویکانند ٹرائبل ہیلتھ سنٹر یعنی وی ٹی ایچ سی تھا۔

M. Palani Kumar
ان کے والد کہتے ہیں، ’’اس صبح سے اب تک اسپتالوں کے چکر ہی لگا رہے ہیں۔‘‘ وی ٹی ایچ سی کے ڈاکٹروں نے پایا کہ ارون کی کمر کے نیچے کا حصہ پوری طرح بیکار ہو گیا ہے۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ ایم سنّ رنگے گوڈا کہتے ہیں، ’’انہوں نے ہمیں چامراج نگر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سی آئی ایم ایس) بھیج دیا۔ وہاں ڈاکٹر نے کہا کہ ہڈی پھنس گئی ہے اور آپریشن کرنا پڑے گا۔ ایک رگ بھی کٹ گئی تھی۔ اسپتال نے تمام رپورٹ اپنے پاس رکھ لی۔ ہمیں دوائیں اور انجکشن دیے گئے۔‘‘
سی آئی ایم ایس میں ریڑھ کی ٹوٹی نلی کو ٹھیک کرنے اور رگوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے سرجری کے بعد ارون کو پھر وی ٹی ایچ سی لایا گیا۔ وہاں اسپتال کے اہلکاروں نے ان کی فیملی کے لوگوں، جن میں ان کی نوجوان بیوی بھی شامل تھیں، کو ان کی دیکھ بھال کرنے کی ٹریننگ دی۔

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
ان کی شادی کو صرف چھ مہینے ہوئے تھے، جب یہ خطرناک حادثہ ہوا۔ ارون کی ۴۵ سالہ ماں، مسنمّا کہتی ہیں، ’’اس کی بیوی پوری طرح اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، جب تک کہ…‘‘ وہ جملہ پورا نہیں کر پاتیں۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’ہم پورا دن جنگل میں رہتے ہیں۔ وہ گھر پر رہتا ہے، موبائل دیکھتا رہتا ہے۔ پہلے جیسے دوست بھی اب ملنے نہیں آتے۔ وہ تنگ آ جاتا ہے، خود کو لاچار محسوس کرتا ہے۔ میں کچھ کر نہیں سکتی۔ بس فکر کرتی ہوں۔‘‘
ارون کہتے ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم ڈاکٹر نے میرے والدین سے کیا کہا۔ مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ میں پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہوں۔ انہوں نے مجھے چلنے کی کوشش کرنے کو کہا۔ لیکن سہارا دینے والا کوئی نہیں تھا، اس لیے میں نے کوشش ہی نہیں کی۔‘‘ ان کی انگلیاں وھیل چیئر کے بائیں حصہ پر رکھے کیتھیٹر بیگ کی پلاسٹک نلی سے کھیلتی رہتی ہیں۔
سرجری کے کچھ دنوں بعد ہی ارون کو پیشاب کرنے میں پریشانی ہونے لگی۔ وی ٹی ایچ سی کے ڈاکٹروں کی کوششیں اسے ٹھیک نہیں کر سکیں۔ ان کے نچلے پیٹ میں درد کے ساتھ ایک ابھری ہوئی سوجن محسوس ہونے لگی۔ جون ۲۰۲۴ میں پھر سے اسپتالوں کے چکر شروع ہوئے۔ پہلے سی آئی ایم ایس اور پھر میسور کے کے آر اسپتال کے ایک یورو لوجسٹ کے پاس لے جایا گیا، جہاں آگے کی جانچ کے لیے انھیں داخل کیا گیا اور پانچ دن بعد چھٹی دی گئی۔

M. Palani Kumar

Pratishtha Pandya
جولائی اور اگست تک یہ مسئلہ بار بار ابھرتا رہا۔ ہر بار ارون کو میسور میں ایک یورو لوجسٹ کی دیکھ ریکھ میں کچھ دنوں کے لیے داخل کرنا پڑتا تھا۔ کئی بار انہیں انفیکشن ہو جاتا تھا، جس کے لیے اینٹی بایوٹک دوائیں دینی پڑتی تھیں۔ کبھی کبھی ان کا بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا، جس کے لیے فکرمندی کو کم کرنے کی دوائیں دینی پڑتی تھیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنا مزید مشکل ہوتا گیا۔
ارون کے والد کہتے ہیں، ’’پیشاب کا مسئلہ شروع ہونے کے بعد ہمیں کئی بار میسور جانا پڑا۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج مفت ہے، لیکن چامراج نگر تک جانے کے لیے گاڑی والے ۳۰۰۰ روپے لیتے ہیں اور میسور جانے کے لیے ۵۰۰۰ روپے۔ اس کے علاوہ کھانے اور ٹھہرنے کا خرچ الگ۔ ہر سفر میں کم از کم ۱۰ ہزار روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر مادے گوڈا کہتے ہیں کہ ارون جیسے لوگوں کی مدد حکومت بہت کم کرتی ہے۔ ’’اگر کسی کو شیر مار دے یا ہاتھی حملہ کر دے، تو تقریباً ۲۰ لاکھ روپے تک کا معاوضہ ملتا ہے۔ لارج ایریا ملٹی پرپز سوسائٹیز بھی بڑے حادثات اور طبی مسائل کے لیے بیمہ اسکیمیں دیتی ہیں۔ لیکن اگر شہد اکٹھا کرتے وقت کوئی درخت سے گر جائے تو بیمہ ملتا ہے نہ معاوضہ۔‘‘ بلیگیری رنگن کی پہاڑیوں سے لے کر ملک بھر کی ان تمام آدیواسی برادریوں کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو اپنے معاش کے لیے جنگلات پر منحصر ہیں۔ ’’ارون سے پہلے کیری ڈِمب پوڈو کا ایک لڑکا بھی درخت سے گر گیا تھا اور اس کا پیر کٹ گیا تھا۔‘‘ کوآپریٹو سوسائٹی کبھی کبھی ۲۰۰۰ سے ۳۰۰۰ روپے تک کی مدد کرتی ہے، لیکن اتنے پیسے میں گزارہ ممکن نہیں ہوتا۔

Pratishtha Pandya
ان کے والد کہتے ہیں، ’’ڈاکٹر، ارون کی پریشانی کو صرف جزوی طور پر ہی ٹھیک کر پائے۔ کے آر اسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اسے بڑے اسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اب وی ٹی ایچ سی کا ایک ڈاکٹر ہر تین مہینے میں آ کر بغیر پیسہ لیے اس کا کیتھیٹر بدل دیتا ہے۔ جب بڑی رکاوٹ ہو جاتی ہے، تو ہمیں چامراج نگر جانا پڑتا ہے۔‘‘
ارون کی زندگی کی روزمرہ کی لے اب پوری طرح ٹوٹ چکی ہے۔
ارون کہتے ہیں، ’’میں صبح سے یہیں بیٹھا رہتا ہوں۔ کبھی کبھی اپنی کرسی کو مرکزی دروازہ تک کھینچ لے جاتا ہوں یا تھوڑی دیر دھوپ میں بیٹھتا ہوں۔ پھر واپس کمرے میں آ جاتا ہوں۔ پہلے سب لوگ ایک ساتھ گھر کے اندر رہتے تھے۔ اس زخم کے بعد کوئی نہیں رہتا۔ میں موبائل پر کچھ نہ کچھ دیکھتا رہتا ہوں۔ یہ کمرہ پہلے سے بنا ہوا تھا۔ میں نے سوچا تھا یہاں رہوں گا تو آنا جانا آسان ہوگا۔ لیکن، سہارا دینے والا کوئی نہیں ہے۔ مجھے اپنی یہ حالت اچھی نہیں لگتی۔
ارون کہتے ہیں، ’’میری بیوی بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ وہ میری پوری دیکھ بھال کرتی تھی۔ لیکن جب میری حالت میں جب کوئی بہتری نہیں ہوئی، تو وہ چلی گئی۔ ایک بار اس نے فون کر کے کہا تھا کہ ’جب تم ٹھیک ہو جاؤگے، تب میں واپس آؤں گی۔‘ اسے گئے ہوئے تین مہینے ہو چکے ہیں۔‘‘ یہ کہتے وقت ارون کی آواز اتنی ہی دھیمی اور نازک لگتی ہے جتنا کہ ان کا جسم۔

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
ارون کی ماں کہتی ہیں، ’’میں اسے ناشتہ اور کھانا دیتی ہوں۔ میں ہی اسے نہلاتی بھی ہوں۔ اگر اسے بیت الخلاء جانا ہوتا ہے، تو اس کے والد سنبھالتے ہیں۔‘‘ کمرے میں بالغوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈائپر کا ایک پیکٹ ٹنگا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے والد کہتے ہیں، ’’اس پر ہر مہینے تقریباً ۱۵۰۰ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’اس کی بہنیں دن میں ۵-۱۰ منٹ اس سے بات کر لیتی ہیں۔ انہیں کالج کا کام بھی رہتا ہے۔‘‘ ان کی ماں تھوڑی دیر رک کر کہتی ہیں، ’’ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ وہ تھوڑا چل پھر سکے اور خود اپنا کام کر سکے۔‘‘
ان کے والد جلدی سے کہتے ہیں، ’’اس کے لیے بڑے اسپتال میں علاج ضروری ہے۔‘‘
وہ کچھ سخت لہجہ میں کہتی ہیں، ’’اب میں اسے پھر اسپتال میں داخل نہیں کراؤں گی۔ پچھلی بار بھی کچھ نہیں بدلا۔ میں پھر سے وہی سب کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘‘
گوڈا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، ’’میری بیوی کو اسپتال پسند نہیں، اس لیے وہ…‘‘

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
مسنمّا ان کی بات پوری ہونے سے پہلے کہتی ہیں، ’’وہاں اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ کوئی نہیں۔ اگر ہم وہاں جائیں تو یہاں کا کام دیکھنے والا بھی کوئی نہیں رہے گا۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اچانک اٹھتی ہیں اور باغات کے کام میں لگنے کے لیے چلی جاتی ہیں۔ شاید اپنے کام میں وہ اپنی تکلیف سے تھوڑی راحت تلاش کرتی ہیں۔
ارون اب کام پر لوٹ نہیں سکتے۔ انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کسی کے ذریعہ ان کی مدد کرنے کا انتظار۔ وقت کے گزرنے کا انتظار۔

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
مارچ آتے ہی جامن کے درختوں پر پھر پھول کھلیں گے۔ ہندوستانی چٹانی شہد کی مکھیاں (ایپس ڈورسوٹا) ان کے ہلکے پیلے خوشبودار پھولوں کے رس کی تلاش میں ان پہاڑیوں پر لوٹ آئیں گی، جو موسم کے حساب سے اپنی مہاجرت کی جگہ بدلتی ہیں۔ بی آر ہلز کے جنگلوں میں ایک اور شہد اکٹھا کرنے کا موسم شروع ہوگا۔ ارون کے نوجوان دوست پھر اونچے درختوں کی طرف بڑھیں گے۔ اور جنگل میں ایک بار پھر ’جینو کوئیو ہاڈو‘ کی گونج سنائی دے گی۔
پکارو، اسے پکارو، او پکارنے والو…
اس گھنے جنگل کے راہی کو پکارو…
چھتّوں میں شہد بھرا ہے…
چھتّوں میں شہد بھرا ہے…
چھتّوں کا شہد، ہے گاڑھا شہد…
چھتّوں کا شہد، ہے گاڑھا شہد…
پکارو، اسے پکارو، او پکارنے والو…
ارون تب بھی یہ گیت نہیں جانتے تھے، اور اب تو وہ اسے گا بھی نہیں پائیں گے۔

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar
مضمون نگار اس اسٹوری کو لکھنے میں مدد کرنے کے لیے ارون اور ان کی فیملی کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر تانیہ شیشادری، ڈاکٹر سنگیتا وی، سولیگا برادری کے کارکن کرن کیتے گوڈا، وویکانند گریجن کلیان کیندر بی آر ہلز اور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بنگلورو کی مہا دیومّا کُمبے گوڈا اور ڈاکٹر پرتھمیش کا بھی شکریہ ادا کرتی ہیں۔ ساتھ ہی کہانی لکھنے کے دوران ترجمہ میں مدد کے لیے ڈاکٹر شوبھنا کرن، شنکر کینچنور اور دیپا کا بھی شکریہ ادا کرتی ہیں۔
ترجمہ نگار: قمر صدیقی
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/the-broken-winged-bird-of-br-hills-ur

