محبوب اپنے گھر والوں کے ساتھ عید الاضحی (جون کے شروع میں) کا تہوار منانے کے لیے اس سال مئی میں بالیا حسن نگر واپس آئے تھے۔ راج مستری کے اس گھرانے نے اپنا دو منزلہ مکان ایک ایک اینٹ کر کے کئی سالوں کی مدت کے دوران کھڑا کیا ہے۔ اس میں پانچ کمرے ہیں اور گراؤنڈ فلور پر مستقبل میں دکان کھولنے کے لیے کچھ جگہ چھوڑ دی گئی ہے۔ مکان کے اس حصہ میں ابھی تک پلاسٹر نہیں چڑھی ہے جہاں محبوب اپنی اہلیہ، ۳۰ سالہ گھریلو خاتون سُرنا بی بی اور اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا ۱۶ سالہ بَکول شیخ، جس نے اسکول چھوڑ دیا ہے، ایک قریبی دکان میں کام کر رہا ہے۔ چھوٹے بیٹے، ۱۲ سالہ ساغر شیخ اور ۷ سالہ ریحان شیخ ایک مقامی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ قربانی کے مقدس تہوار اور محبوب کی وطن واپسی کے موقع پر، ان کے کنبے نے قربانی کا انتظام بھی کیا تھا۔
لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ’’تھانے کے تعمیراتی مقام سے بار بار آنے والی کالوں نے انہیں واپس بلا لیا۔‘‘ گھر اور تہوار کو چھوڑ کر محبوب واپس مہاراشٹر چلے گئے اور اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا۔
جب وہ ۹ جون کو ایک مقامی اسٹال پر چائے پی رہے تھے تو پولیس نے بغیر وضاحت کے انہیں اٹھایا اور میرا روڈ، تھانے میں شری ایل آر تیواری کالج آف انجینئرنگ کے قریب اپنی ایک چوکی پر لے گئے۔ رات گئے انہیں میرا روڈ تھانہ منتقل کر دیا گیا، جہاں ان سے شہریت ثابت کرنے والی دستاویزات طلب کی گئیں۔
’’تم بنگلہ دیشی ہو، ٹھیک ہے؟‘‘ افسروں نے مجھ سے ہندی میں دریافت کیا۔ میں نے کہا، ’’میرا تعلق مغربی بنگال سے ہے،‘‘ اور انہیں اپنا آدھار اور پین کارڈ دکھایا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ آج کل پانچ روپے میں خریدے جاسکتے ہیں،‘‘ محبوب نے اس رپورٹر کو بتایا۔
کسی طرح انہوں نے چوری چھپے بالیا حسن نگر میں اپنے گھر والوں کو فون کیا جنہوں نے فوراً مہیش استھلی کی مقامی گرام پنچایت سے رابطہ کیا اور تمام ضروری دستاویزات میرا روڈ پولس اسٹیشن کو بھیج دیے۔ محبوب کہتے ہیں، ’’چار دنوں تک میں نے بے پناہ ذہنی اذیتیں برداشت کیں۔ دن میں مجھے اسٹیشن کے باہر بٹھایا گیا اور راتوں کو پولیس کیمپ میں رکھا گیا۔‘‘
میرا روڈ پولیس محبوب کے ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ پولیس کی جانب سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ سینئر انسپکٹر میگھنا بُراڈے نے کہا کہ ان سے ’’غلطی سرزد نہیں ہوئی۔‘‘ اور یہ کہ محبوب شیخ اور دیگر کی حراست پولیس کمشنر کے حکم کے تحت عمل میں آئی تھی۔