پرانے شہر میں کسی سے بھی دریافت کریں کہ حیدر آبادی لاکھ کی چوڑیاں کہاں بنتی ہیں، تو وہ آپ کو شہر کے لاڈ بازار (لاکھ بازار) میں ’عثمان کا کاریگری‘ کی جانب بھیج دے گا۔ دستکاری کی اس مشہور دکان کے آگے کوئی سائن بورڈ نہیں ہے۔ ہلکے زنگ آلود دھاتی شٹر کے کھلنے کے بعد تین دیواروں والا ایک کمرہ نمودار ہوتا ہے، جس میں لاکھ کے کاریگر شیخ عقیل اور شیخ حجیل بیٹھے ہیں، ان کے درمیان دھات کی ایک چھوٹی سی میز حائل ہے۔
دونوں بھائی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے چوڑیاں بنانے کا کام کر رہے ہیں، اور انفرادی طور پر روزانہ تقریباً۵۰۰ تک چوڑیاں بنا سکتے ہیں۔ تکمیل کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی لاکھ کی چوڑیاں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں۔ ’’گلابی رنگ سب سے مقبول ہے،‘‘ شوخ گلابی رنگ میں رنگے لاکھ کا ایک بلاک اٹھاتے ہوئے عقیل کہتے ہیں۔ گلابی کے علاوہ، سیاہ، سنہری اور فیروزی بھی ان رنگین چوڑیوں کے لیے پسندیدہ رنگ ہیں، جن پر آئینے کی طرح چمکدار موتیاں جڑی جاتی ہیں، اور جو شفاف سیلوفین کے ڈبوں میں رکھی جاتی ہیں۔
چارمینار کے قریب لاڈ بازار کی تنگ گلیوں میں واقع اس دکان اور ورکشاپ سے پرانی لکڑی اور پیتل کی خوشبو آ رہی ہے۔ جب عقیل اور حجیل کام کرنے لگتے ہیں تو قریبی مسجد سے اذان اور باہر کھیل رہے بچوں کی آوازیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اپنی عمر کی تیس کی دہائی کے وسط میں موجود ان بھائیوں نے صرف یہی کام کیا ہے۔ وہ خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور اپنے ہنر کو انہماک کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وہ پاری کو بتاتے ہیں کہ ان کی دکان کا نام ان کے ایک رشتہ دار ’عثمان‘ کے نام پر ہے۔ ’’وہ اس دکان کے مالک ہیں، لیکن یہاں کام نہیں کرتے۔ صرف میرے بھائی اور میں یہ کام کرتے ہیں،‘‘ عقیل بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اس دکان کا کوئی کرایہ نہیں ادا کرتے۔














