جب سیتا سسانے نے اپنے خاوند پر نگاہ ڈالی تو ان کا دوپہر کا کھانے کا وقفہ ایک خوفناک خواب میں بدل گیا۔
انہوں نے دیکھا کہ ان کے شوہر کیشو کا منہ ایک طرف کو ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ وہ تیزی سے ان کی طرف لپکیں۔ کیشو کے کپڑے پیشاب سے گیلے ہو چکے تھے۔
’’میں نے ان کا نام لے کر پکارا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،‘‘ برسوں بعد سیتا یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ہم مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے اہرواہے گاؤں میں واقع ان کی ایک کمرے کی جھونپڑی میں بیٹھے ہیں۔
اس دن اس جوڑے نے اپنی صبح کولہاپور کی ایک شوگر فیکٹری کے لیے گنا کاٹنے اور اسے ٹریکٹروں پر لادنے میں گزاری تھی۔ ان کے دو بیٹے بھی مغربی مہاراشٹر کے انہی کھیتوں میں ان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
پو پھٹنے کے وقت سے شروع ہونے والی کمر توڑ مشقت دوپہر کے آدھے گھنٹہ کے کھانے کے وقفہ کے سوا غروب آفتاب تک جاری رہتی تھی۔ پینتالیس سالہ سیتا کھیت میں ایک چادر بچھا دیتی تھیں اور اپنی عارضی جھونپڑی میں صبح جلدی جلدی تیار کیا ہوا کھانا اس پر نکال کر رکھ دیتی تھیں۔ چار پلیٹیں لگاتیں اور پہلی پلیٹ اپنے ۵۵ سالہ شوہر کیشو کو دیتیں، جو بظاہر اپنی ہی دنیا میں گم رہتے تھے۔ اور پھر اچانک ان کا چہرہ ٹیڑھا ہوگیا تھا۔
’’میں گھبرا گئی اور انہیں قریب ترین ڈسپنسری میں لے گئی،‘‘ سیتا اکتوبر ۲۰۲۳ کی اس خوفناک دوپہر کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ فالج کے حملے کی تشخیص میں ڈاکٹر نے تاخیر نہیں کی۔ کیشو کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرانا تھا۔
تاہم، وہ اتنی آسانی سے وہاں سے نکل نہیں سکتے تھے۔ دیگر تمام غریب مہاجر مزدوروں کی طرح، اس کنبے نے بھی ڈیڑھ لاکھ روپے کی پیشگی رقم لے رکھی تھی، جسے چھ ماہ کی کٹائی کے سیزن کے دوران کاٹے گئے گنے کے وزن کے حساب سے منہا کرنا تھا۔
’’جس ٹھیکیدار نے ہمیں کام پر رکھا تھا، وہ ہمیں جانے نہیں دے رہا تھا،‘‘ دلت گھرانے سے تعلق رکھنے والی سیتا بتاتی ہیں۔ انہوں نے ٹھیکیدار سے منت سماجت کی، یا یوں کہیں کہ رحم کی بھیک مانگی، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ ان کے دونوں بیٹوں، ۲۳ سالہ سوربھ اور ۲۱ سالہ سورج، کو ان کے ساتھ کام جاری رکھنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ کیشو کھیتوں میں نصب ایک عارضی خیمہ میں لاچار پڑے رہے۔












