کیرالہ کے کوزی کوڈ (یا کالی کٹ) میں مانسون کی بارش ہو رہی ہے، لیکن یہ بارش اُس بزرگ آدمی کو پریشان نہیں کرتی جو رات کو ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر سوتا ہے۔ ان کے اوپر لگا کپڑے کا ٹینٹ صرف نام کا ہے۔ دن میں وہ قریب میں واقع ملا پورم میں تحریک پر آمادہ آدیواسی خاندانوں کے درمیان کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ تقریباً ۷۰ دنوں سے نیلمبور علاقہ کے ۶۰ آدیواسی خاندان ریاستی حکومت کے ذریعہ برسوں پہلے وعدہ کی گئی زمین کا مطالبہ لے کر غیر میعادی دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
دھرنے کے کنوینر اور یہاں ہر وقت موجود رہنے والے ۹۶ سالہ آئینور واسو اس تحریک کی نظریاتی ریڑھ ہیں، جنہیں پیار سے سب ’گرو‘ واسو کہتے ہیں۔ ان کا لاغر جسم اور میٹھی آواز پختہ یقین سے بھری ہوئی ہے۔ جس عمر میں زیادہ تر لوگ آرام چاہتے ہیں، واسو اب بھی مظلوموں کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ’’حکومت ان آدیواسی خاندانوں کو تکنیکی وجوہات کا بہانہ بنا کر دھوکہ دے رہی ہے،‘‘ اپنی جھریوں کے پیچھے سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ وہ کہتے ہیں۔ ’’زمین ان کا حق ہے، کوئی خیرات نہیں۔‘‘
یہ تحریک آئی ٹی ڈی پی (مربوط قبائلی ترقیاتی پروجیکٹ) کے دفتر کے سامنے سال ۲۰۲۳-۲۴ میں منعقد ۳۱۴ دنوں کی بھوک ہڑتال کا اگلا مرحلہ ہے، جس میں نیلمبور کے انھیں آدیواسی خاندانوں نے حصہ لیا تھا۔
اُس وقت ضلع کلکٹر نے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ ان ۶۰ خاندانوں میں سے ہر ایک کو چھ مہینے میں ۵۰ سینٹ زمین دی جائے گی۔ لیکن ۱۵ مہینے گزر جانے پر جب وعدے بہانوں میں بدل گئے، تو یہ خاندان پھر سڑکوں پر لوٹ آئے۔ اور گرو واسو، جنہیں کبھی ’خطرناک نکسلی‘ کہا گیا تھا، اس بار بھی ستیہ گرہ پنڈال کی سخت زمین پر راتیں گزار رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں یہ ان کی پہلی جدوجہد نہیں ہے۔ سال ۲۰۲۳ میں انہیں کوزی کوڈ ضلع میں پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے سبب دو مہینے کی جیل ہوئی تھی۔ یہ معاملہ ۲۰۱۶ کا تھا، جب انہوں نے کوزی کوڈ میڈیکل کالج کے لاشوں والے کمرے کے باہر نیلمبور کے جنگلات میں مبینہ فرضی مڈبھیڑ میں مارے گئے ماؤ نواز کوپّم دیو راجن اور اجیتا کی موت کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنہ دیا تھا۔
انہوں نے گرفتاری کے بعد ضمانت لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا تھا، اس بار بھی جیل ان کے حوصلہ کو توڑ نہیں پائی، بلکہ بری ہونے کے بعد ریاستی تشدد پر ان کا حملہ مزید تلخ ہو گیا۔








