دنامتی ماجھی اپنی پنشن کا تقریباً آدھا حصہ ٹوتھ پیسٹ پر خرچ کر دیتی ہیں، جس کے مرکبات میں گڑ اور تمباکو بھی شامل ہیں۔
’’مجھے پنشن کے ۱۰۰۰ روپے ملتے ہیں، جس میں سے ۵۰۰ روپے میں اپنے بھائی کی بہو کو دے دیتی ہوں، جو مجھے کھانا کھلاتی ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’باقی پیسوں سے میں نمک، مرچ، صابن، مالش کے لیے تیل اور گڑاکھو خریدتی ہوں۔‘‘
جب اس رپورٹر نے مذاق میں کہا کہ ٹوتھ پیسٹ پر اتنا خرچ زیادہ نہیں ہے جب کہ منہ میں کچھ ہی دانت بچے ہیں، تو وہ مسکرا کر بولیں، ’’اس کے بغیر مجھے اچھا نہیں لگتا۔ یہ ایک لت [نشہ] ہے، جیسے تم لوگوں کو گُٹکا کھانے [تمباکو چبانے] کی ہوتی ہے۔‘‘
دناوتی مٹی کے گھر میں رہتی ہیں، جس کی چھت بھی مٹی کی ہی ہے۔ ایک کمرہ والے اس گھر میں داخل ہونے کے لیے آدمی کو جھکنا پڑتا ہے۔ اندر راگی کوٹنے والا ایک پتھر، ٹارچ، مٹی کا چولہا اور بانس کی ٹوکری میں کچھ کپڑے رکھے ہوئے ہیں، یہی کل سامان ہے۔ وہ مٹی کے فرش پر ہی سوتی ہیں۔
بات چیت کے دوران وہ کوٹنے والا پتھر نکالتی ہیں اور پیسائی شروع کر دیتی ہیں، ساتھ ہی ملک کے اس غریب ترین حصہ، یعنی اوڈیشہ کے کالا ہانڈی میں گزارے گئے اپنے بچپن کے بارے میں بتانے لگتی ہیں۔












