مئی ۲۰۲۶ میں اتوار کا دن ہے اور مغربی بنگال کے شمالی ۲۴ پرگنہ میں مَتُوا برادری کے روحانی مرکز، ٹھاکر باڑی میں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ مندر میں پوجا کرنے نہیں آئے ہیں، بلکہ شدید گرمی میں لمبی قطاریں بنا کر اس امید میں کھڑے ہیں کہ انہیں وہ دستاویز مل جائیں جن سے وہ اپنی شہریت ثابت کر سکیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ہٹائے گئے ۹۰ لاکھ سے زیادہ ناموں میں شامل ہیں۔ وہ اپریل ۲۰۲۶ میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکے۔
متوا برادری کی اکثریت والے ۱۵ اسمبلی حلقوں میں بڑی تعداد میں ہندو ووٹروں کے نام ہٹائے گئے۔
ٹھاکر باڑی میں جمع بھیڑ میں للتا ڈھالی بھی ہیں، جو اپنے شوہر کارتک کے ساتھ ہندو کارڈ بنوانے آئی ہیں۔ کبیلاش پور کی ۴۳ سالہ للتا تقریباً ۳۰ کلومیٹر کا فاصلہ اسکوٹی سے طے کر کے یہاں پہنچی ہیں۔ فائنل ایس آر لسٹ میں ان کا نام نہیں آیا ہے، جب کہ کارتک کا نام فہرست میں موجود ہے۔
للتا کے دادا اور شوہر ۱۹۵۰ کی دہائی میں ہندوستان آئے تھے، لیکن ۱۹۸۴ میں واپس بنگلہ دیش چلے گئے۔ چند برسوں کے بعد وہ پھر ہندوستان لوٹ آئے۔ کارتک (۵۳) کہتے ہیں، ’’اور بابا ایپار اوپار کورتو۔ کے جانے کون پارے جنمیچھے [ان کے والد اِس پار اُس پار آتے جاتے رہے۔ کون جانتا ہے کہ ان کی پیدائش کس طرف ہوئی تھی]۔‘‘
مَتُوا برادری ۱۹یں صدی کے اواخر میں ابھرا ایک برہمن واد مخالف فرقہ ہے۔ یہ ہری چند ٹھاکر کے ذریعہ نچلی ذاتوں، خاص کر غیر منقسم بنگال کے مشرقی حصہ میں رہنے والے نام شودروں کو منظم کرنے کے دوران ابھرا۔ ریاست میں نام شودروں کو درج فہرست ذات کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ متوا برادری کے تمام لوگ زندگی کے ناموافق حالات کا سامنا کرتے ہوئے مغربی بنگال آئے اور ان کے پاس دستاویز نہیں ہیں۔ ایان گُہا، جو برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسکس میں فیلو ہیں، بتاتے ہیں، ’’تقسیم کے بعد مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش میں نام شودر بھی مذہبی تعصب کے شکار ہوئے۔‘‘ گُہا نے مغربی بنگال میں ذات کی سیاسی نقل پذیری کے بارے میں گہرا مطالعہ کیا ہے۔












