شام کا وقت تھا جب درگا اور نارائن سوامی کی ’گنگمّا نیرناگا جڑے ہینی توَڑے‘ کی پیشکش ختم ہوئی تھی۔ کوٹیگن ہلّی رامیّہ کے اس کنڑ ڈرامہ کا موضوع زمین اور پانی پر آئینی حقوق ہے۔ اس ڈرامہ کو اکثر ریاست میں چھواچھوت کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
جیسے ہی ان کی موسیقی کی آخری راگنی ختم ہوئی، انہوں نے بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر سڑک کے اسٹیج پر رکھ دی جس پر وہ محض کچھ دیر قبل قابض تھے۔ باباصاحب امبیڈکر ایک اسکالر، سماجی مصلح اور سماجی برابری کے علمبردار تھے، اور انہوں نے دلتوں کے حقوق کے لیےلڑائی لڑی تھی۔
حالانکہ لوگ بڑے انہماک کے ساتھ اس ڈرامہ کو دیکھ رہے تھے، لیکن جیسے ہی امبیڈکر کی تصویر سامنے آئی، کرناٹک کے اس چھوٹے سے گاؤں کا مزاج فوراً بدل گیا۔
’’جیسے ہی ہم تصویر رکھتے ہیں، لوگ ہماری ذات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ وہ ہمیں پانی دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے برآمدے میں بیٹھنے سے منع کرتے ہیں۔ کچھ گاؤوں میں منتظمین ہماری پیشکش کو منسوخ بھی کر دیتے ہیں،‘‘ نارائن سوامی بتاتے ہیں۔
درگا سے ان کی عمر، ان کی ازدواجی حیثیت اور بہت سی دیگر چیزوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے: ’’کیا آپ کے والدین اور گھر والے آپ کو اس طرح کی پیشکش میں شامل ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟‘‘



























