شاہدہ اور پی ایچ سی میں انتظار کر رہے دوسرے مریض آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کا موضوع جنوری ۲۰۱۷ میں اس ۱۸ کمروں والے ہیلتھ سینٹر کی چھت پہ لگایا گیا سولر پینل ہے۔ آسام انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کے ذریعہ لگائے گئے ان ۲۰ پینلوں اور ۱۶ بیٹریوں سے ۵ کلو واٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔
کئی دہائی کے اندھیروں کے بعد، شمسی توانائی نے چار کے رہائشیوں کو دستیاب طبی سہولیات کا معیار بہتر کر دیا ہے۔ ’’اس پی ایچ سی میں اب بجلی اور نلکے کا پانی دستیاب ہے،‘‘ سولر پینل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہدہ کہتی ہیں۔ ’’حاملہ خاتون اب یہاں چیک اپ کرانے اور بچوں کو جنم دینے کے لیے آ سکتی ہیں۔‘‘
شاہدہ جانتی ہیں کہ جغرافیائی طور پر برسنگ جیسے الگ تھلگ علاقہ میں اسپتالوں کے اندر بچوں کی پیدائش کی کتنی اہمیت ہے۔ ’’میں نے دائی اور ہمسایوں کی مدد سے [گھر پر دو بچوں کو] جنا۔ میں دونوں دفعہ کافی پریشان تھی، مجھے ان کی مہارت پر یقین نہیں تھا۔ لیکن میرے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا، اور انہوں نے مجھے دلاسہ دیا کہ سب ٹھیک سے ہو جائے گا…‘‘
پی ایچ سی میں شمسی توانائی کی فراہمی سے پہلے، صرف حاملہ عورتوں کو طبی ایمرجنسی کے وقت دریا کے پار، ڈھبری ٹاؤن کے سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال لے جایا جاتا تھا۔ ہسپتال کا خرچہ تو ہوتا ہی تھا، ساتھ میں رات کے وقت جب دن میں چلنے والی کشتی کی سروس بند ہو جاتی تھی، تو کشتی کا کرایہ بھی بہت زیادہ ہوتا تھا، تقریبا ۲۰۰۰ سے ۳۰۰۰ روپے۔
آج بھی برسنگ کا پی ایچ سی دوپہر میں بند ہو جاتا ہے، جس کے بعد کسی بھی طبی ایمرجنسی کے لیے لوگوں کو ڈھبری جانا پڑتا ہے۔ لیکن شمسی توانائی نے اس ہیلتھ سینٹر میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ ’’سولر پلیٹ جنوری ۲۰۱۷ میں لگائی گئی، اور فروری سے مارچ تک یہاں ۱۸ بچوں کی پیدائش ہوئی،‘‘ ڈاکٹر جواہر لال سرکار بتاتے ہیں۔ وہ ۲۰۱۴ میں فقیر گنج کے سب ڈویژنل میڈیکل آفیسر (ایپیڈیمکس) کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد، اب اس پی ایچ سی کے سربراہ ہیں۔ ’’ہمارے یہاں اس چار پر ۱۰ آشا کارکن [منظور یافتہ سماجی صحت کارکن] ہیں، اور سب کی یہی کوشش رہتی ہے کہ حاملہ عورتیں بچوں کی ڈیلیوری کے لیے اسپتال آئیں۔‘‘