کاٹِلے کڑا میں پہلے گاہک کی آمد سے پہلے ہی جنگل میں دن کی شروعات ہو چکی ہوتی ہے۔
سورج اُگتے ہی، ششی کماری کانی اور ان کے ساتھ دیگر عورتیں ترو اننت پورم ضلع میں وِتورا پیپّارہ ڈیم روڈ سے ہوتے ہوئے جنگل میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ مغربی گھاٹ کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہاں کی سڑک پیپّارہ آبی ذخیرہ کے پاس سے گزرتی ہے اور آگے جا کر آدیواسی بستیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہاں، کھانا پکانے والا ایندھن پہنچایا نہیں جاتا، بلکہ لوگوں کو خود ہی اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔
یہ عورتیں اپنے سروں پر ایندھن کی لکڑی لادے ہوئے گھر واپس لوٹتی ہیں۔ تب جا کر ان کا چولہا جلتا ہے۔ ’کاٹِلے کڑا‘ کا لفظی معنوی ہے ’جنگل میں دکان‘۔
سڑک کے کنارے بنے کھانے کے اس چھوٹے سے ہوٹل میں، چولہے سے دھواں نکلتا ہے اور سیاہ ہو چکے برتنوں کے اوپر پھیل جاتا ہے۔ ایک کونے میں ایل پی جی سیلنڈر پڑا ہے، جو استعمال میں نہیں ہے۔ خالی سیلنڈر پابندی سے بھرے نہیں جا رہے ہیں، قیمتیں اونچی ہو چکی ہیں، اور سپلائی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔
’’ہم اب گیس پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اس لیے لکڑی کی طرف لوٹ آئے ہیں،‘‘ ۵۹ سالہ ششی کماری کہتی ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی وجہ سے پورے کیرالہ میں سیال پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سپلائی پر اثر پڑا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے چھوٹے چھوٹے ہوٹل پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ گیس کی سپلائی میں تاخیر اور قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے ایسے کئی ہوٹل اب لکڑی سے کھانا پکانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اس بحران کی وجہ سے، کاٹِلے کڑا میں دن کی ترتیب پوری طرح بدل چکی ہے۔
ششی کماری نے چار سال پہلے یہ ہوٹل کھولا تھا، کیوں کہ ان کے شوہر منی یَن (۵۸) بیمار پڑنے کے بعد کام کرنے سے معذور ہو گئے تھے۔ کانی برادری مغربی گھاٹ کے علاوہ میں رہنے والی ایک چھوٹی سی آدیواسی برادری ہے، جو اپنے معاش کے لیے برسوں سے جنگل پر منحصر رہی ہے۔ کانی برادری سے تعلق رکھنے کے سبب ششی کماری نے اسی کام کا انتخاب کیا جو انہیں سب سے اچھا آتا تھا: یعنی زمین سے جڑی ہوئی کھانے کی روایت کو بطور پیشہ اپنانا۔
یہاں کی ان عورتوں نے آمدنی کے لیے انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروگرام کی مدد اور کڈمب شری کے ذریعہ حاصل کردہ قرض سے سڑک کے کنارے ایک اچھا باورچی خانہ بنایا۔ کڈمب شری ’ہوٹلوں‘ نے کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے لوگوں کی جان بچانے میں مدد کی تھی۔






