جنابائی سونوَنے نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کبھی بحث یا جھگڑا نہیں کیا تھا۔
لیکن یہ سال کچھ الگ رہا۔ ’’میں جلد ناراض ہو جاتی ہوں اور معمولی اختلافات پر بھی اپنے دوستوں سے لڑنا شروع کر دیتی ہوں،‘‘ مہاراشٹر کے بھادولے گاؤں میں اپنے دو کمروں کے معمولی سے مکان کے باہر بیٹھیں ۶۲ سالہ سونوَنے کہتی ہیں ۔
سال ۲۰۲۵ کے موسم گرما میں ریاست کے کولہاپور ضلع میں رات کے درجۂ حرارت میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔ اور جنابائی کو احساس ہوا کہ وہ سونے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ ان کی بے چینی ایک یا دو دن میں ختم ہو جائے گی۔ تاہم ایسے بھی دن گزرے جب وہ مشکل سے تین گھنٹے کی نیند ہی لے پائیں۔ دن، ہفتوں اور مہینوں میں بدلتے گئے۔ انہوں نے خود کو مسلسل چڑچڑا اور تھکا ہوا پایا۔
جنابائی ایک بے زمین کسان ہیں اور دن کے آٹھ گھنٹے دوسروں کے کھیتوں میں کمر توڑ محنت کرتی ہیں۔ ان کے ذمہ گھاس کی نکائی، جانوروں کے چارے کا بھاری بوجھ اٹھانا، اور فصلوں کی کٹائی کرنا شامل ہے۔ شام تک وہ تھک کر نڈھال ہو جاتی ہیں۔ ان کے کندھوں میں درد ہونے لگتا ہے، دن میں بوجھ اٹھانے کی وجہ سے ان کی ٹانگیں تھک جاتی ہیں۔ ایسے دن کے اختتام پر وہ عموماً رات میں ۱۰ بجے تک اپنے گھر کے دروازے کے قریب سو جاتی تھیں اور چند منٹوں کے اندر انہیں نیند آ جاتی تھی۔
لیکن گہری اور پرسکون نیند کی وہ راتیں اب بھولی بسری باتیں ہو گئی ہیں۔ علاقہ میں حالیہ مہینوں کے دوران درجۂ حرارت اور ہوا میں موجود نمی میں اضافہ کی وجہ سے پوری رات پسینہ بہتا رہتا ہے۔ بے چینی کی وجہ سے راتیں کروٹ بدلتے گزرتی ہیں۔ ٹن کی چھت سے نکلنے والی گرمی اکثر نیند میں خلل پیدا کر دیتی ہے۔
جب نیند کھل جاتی ہے، تو دوبارہ سونے میں انہیں کم از کم ایک گھنٹہ کا وقت لگتا ہے۔












