ریاستی حکومت مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (منریگا) کے تحت اُن کسانوں کو ۲ لاکھ ۹۹ ہزار کی سبسڈی دیتی ہے، جن کی خود کا کنواں کھودنے کی درخواست منظور ہو جاتی ہے۔ کسانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس پیسے سے مزدوری ادا کریں گے اور پائپ جیسے سامان حاصل کریں گے۔ یہ اخراجات پنچایت سمیتی سے قسطوں میں مانگے جا سکتے ہیں۔
لیکن کام شروع کرنے کے لیے، بلکہ خود اپنی زمین کے کاغذات پانے کے لیے، جادھو کو پیسوں کی ضرورت پڑی۔ وہ ایک مقامی ساہوکار کے پاس گئے، جس نے انھیں ماہانہ ۵ فیصد شرحِ سود پر ۴۰ ہزار روپے دیے، یعنی ۶۰ فیصد سالانہ کے بھاری سود پر۔ ماضی میں قحط کے زمانے میں، جادھو نے بینکوں سے قرض لیے تھے، لیکن کسی پرائیویٹ سورس سے انھوں نے پہلی بار پیسے لیے تھے۔ ’’میں نے ۳۰ ہزار روپے رشوت کے طور پر دے دیے اور کنویں کی ابتدائی تعمیر کے لیے ۱۰ ہزار روپے رکھ لیے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’مجھے امید تھی کہ میں ساہوکار کے پیسے جلد ہی لوٹا دوں گا۔ میں جن لوگوں سے ملا، انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کام کر دیں گے۔‘‘
فروری ۲۰۱۵ میں، انھیں انتظامیہ کی طرف سے منظوری مل گئی، اور کام شروع کرنے کے لیے جس ورک آرڈر کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی اس کے بعد جلد ہی مل گیا۔ اس سے ان کے اس اعتماد کو تقویت ملی کہ جیسے ہی انھیں منریگا کا فنڈ ملے گا، وہ اپنا قرض چکانے کے قابل ہو جائیں گے۔ لہٰذا، انھوں نے مزدوروں کو کام پر لگایا اور اپنے کھیت کے قریب ہی پوری محنت سے کنواں کھودنا شروع کر دیا۔
لیکن ورک آرڈر ملنے کے باوجود انھیں پنچایت سمیتی سے پیسے نہیں ملے۔ وہ اپنے گھر سے ۱۵ کلومیٹر دور، پھولمبری کے سمیتی آفس پیدل یا پھر ساجھا رکشہ میں بیٹھ کر لگاتار جاتے رہے۔ وہاں پر کسی نے بھی ان کی شکایتوں پر دھیان نہیں دیا۔ جادھو کہتے ہیں، ’’پیسے کے لیے بار بار چکر لگانے سے نہ صرف مجھے پیسوں کا نقصان ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے میرے کام کا وقت بھی ضائع ہوتا رہا۔‘‘
دریں اثنا، کنویں کی کھدائی ۲۰ فیٹ تک ہو چکی تھی۔ جادھو کو امید تھی کہ چند اور ہفتوں کی کھدائی کے بعد کنویں میں پانی نکلنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن سرکاری پیسہ اب بھی جاری نہیں کیا گیا۔ پیسہ کی اس دیری نے جادھو کے پروجیکٹ کو روک دیا۔ ’’مزدوروں نے کام چھوڑ دیا، اور میں انھیں قصوروار نہیں ٹھہرا رہا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں ان کے پیسے نہیں ادا کر سکتا تھا۔ پھر وہ کام کیوں جاری رکھتے؟‘‘
نصف تعمیر کردہ کنواں جو جادھو کی جھونپڑی کے قریب پتھروں سے گھرا ہوا ہے انھیں ہر روز قرض، بڑھتی ہوئی شرحِ سود، مزدوری کی لاگت اور گھنٹوں کی محنت جیسے ان کے نقصانات کی یاد دلاتا رہتا ہے، اس کنویں کے لیے جو اَب صرف ایک گڑھا بن کر رہ گیا ہے۔