…مونیئول چولے گیال لو
مونیئول چولے گیال لو
[مونیئول زندہ باد
زندہ باد مونپا سرزمین]
اسکول کی دعائیہ مجلس کا یہ آخری گیت ہے، جو میرے ذہن میں سوال چھوڑ جاتا ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ میں نے یہ گیت کبھی سنا نہیں ہے یا پھر یہ زبان مجھے نہیں آتی۔ سوال اس لیے بھی پیدا ہوئے کہ ہمالیہ کی اس وادی میں مقامی لوگوں کے ذریعہ بولی جانے والی زبان سے اس کی زبان کافی الگ سنائی دیتی ہے۔ ویسٹ کمینگ ضلع کے چُگ گاؤں میں مونپا خاندانوں کی زندگی کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے مجھے کچھ عرصہ ہو چلا ہے۔
جولائی کا مہینہ ختم ہونے کو ہے، اور جمعرات کی صبح کا وقت ہے۔ میں اُس گاؤں میں ہوں، جسے تمام لوگ اروناچل پردیش کا سب سے خوبصورت گاؤں کہتے ہیں۔ سرکاری اسکول کے ٹیچر نوانگ سیرنگ کی بائک پر پیچھے بیٹھ کر میں چُگ سے تقریباً ۶ کلومیٹر دور واقع راما کیمپ کے پی ایم شری سرکاری سیکنڈری اسکول پہنچی ہوں۔ آس پاس کے گاؤوں کے تمام بچے ہر صبح پیدل اسکول آتے ہیں۔
صبح کے ۹ بجے ہیں اور دعائیہ مجلس کا وقت ہو رہا ہے۔ میں دیوار کے جتنے قریب ہو سکتی ہوں اتنا قریب رہنے کی کوشش کر رہی ہوں، اور ان طلباء کے پیچھے کھڑی ہوں جو اسٹیج سے پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ میرے سامنے سرسبز پہاڑیاں ہیں، بے داغ سفید بادلوں سے سجا نیلا آسمان ہے، جو طلباء کی ڈریس سے میل کھاتا ہے۔ سیدھی قطاروں میں ۲۶۰ بچے کھڑے ہیں۔





