بہار کے سیتامڑھی ضلع میں واقع ہمارے گاؤں برّی پھلوریہ سے تقریباً ایک گھنٹہ کی پیدل دوری پر شمال مغرب میں ایک گاؤں ہے، بھوانی پور۔ وہاں سے روزانہ ایک عورت اپنے سر پر بانس کی ٹوکری (جسے چھینٹی کہا جاتا ہے) اٹھائے محلہ محلہ گوشت بیچنے جاتی تھی۔ اس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ چونکہ وہ پان بہت کھاتی تھی اس لیے سب اسے ’’پان والی‘‘ ہی کہتے تھے۔ یہ کوئی سال ۱۹۷۹ کی بات ہے۔
وہ غریبی کے دن تھے، مچھلی یا گوشت کم ہی نصیب ہوتا تھا۔ ایسے میں، جس دن پان والی گاؤں آ جاتی، ’’گوس لے لو گوس [گوشت لے لو گوشت]!‘‘ وہ دن ہمارے لیے کسی عید سے کم نہیں ہوتا تھا۔
مجھے گوشت کھانے کا اتنا شوق تھا کہ میرے دادا، مرحوم شیخ عبدالحکیم مجھ سے مذاق کرتے، ’’جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو میں تمہاری شادی پان والی کی بیٹی سے کرا دوں گا۔‘‘
بھوانی پور سے پھلوریہ (ایک مسلم اکثریتی گاؤں) تک پہنچنے کے لیے صرف دو راستے ہیں۔ ایک نرہر پور سے ہو کر آتا ہے اور دوسرا بسول سے۔ دونوں ہی گاؤوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی ہے۔ درمیان میں ایک ندی پڑتی ہے، جس کا نام ادھوارا ہے۔ اسے عبور کرنے کے بعد ہی پان والی ہمارے گاؤں تک پہنچتی تھی۔
ہمارے گاؤں کے بعد وہ ہندو اکثریتی گاؤوں برّی اور باجت پور سے ہوتے ہوئے کنچن پور چلی جاتی اور بچا ہوا گوشت وہاں فروخت کرتی تھی۔
آج یہ ناممکن لگتا ہے، لیکن ان دنوں پان والی کو گوشت سر پر اٹھائے گھوم گھوم کر بیچنے سے کبھی کسی نے نہیں روکا۔ جس طرح ہمارے علاقہ کے مسلمانوں کو ہندوؤں کے سور کا گوشت کھانے، تاڑی اور شراب پینے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، اسی طرح ہندوؤں کو بھی مسلمانوں کے گوشت کھانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔
معلوم نہیں اب وہ پان والی زندہ بھی ہے یا نہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جسے وہ وقت مرتا جا رہا ہے۔ بھوانی پور سے پھلوریہ کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔