گلاب کی پنکھڑیوں اور پتوں کی لکیروں کے علاوہ بھی ارشاد حسین دھات پر بہت سارے نقش ابھار سکتے ہیں۔ وہ ایک فنکار ہیں، اور ان کے فن کو ’سیا قلم‘ کہا جاتا ہے، جو اتر پردیش میں ’پیتل نگری‘ کے نام سے مشہور مرادآباد میں رائج ہے۔
سارا دن جن مصنوعات پر انہوں نے کندہ کاری کی ہے وہ پیر زادہ میں واقع ان کی ورکشاپ میں ان کے ارد گرد بکھری پڑی ہیں۔ ان مصنوعات میں مور، چراغ، سواستک سے مزین پیالے، پوجا کی گھنٹیاں، اور شیر کے سر والے تلوار کے دستے شامل ہیں۔
ارشاد کا تعلق سیا قلم کاریگروں کے ایک طویل سلسلہ سے ہے۔ انہوں نے یہ کام ۱۰ سال کی عمر سے کرنا شروع کیا تھا۔ جس دیا (چراغ) پر وہ کام کر رہے ہیں اسے ایک تپائی، یعنی لکڑی کی ایک چھوٹی سی میز پر رکھ کر دو پتھروں کے درمیان بٹھایا گیا ہے۔ دیا سے بندھے دھاگے کا ایک سرا میز کے نیچے تک جاتا ہے اور ان کے دائیں پاؤں سے بندھا ہوا ہے۔ جیسے ہی ارشاد قلم کی شکل والی چھینی پر لکڑی کی تھاپی سے ضرب لگاتے ہیں، دھات پر ایک عمدہ نمونہ ابھر جاتا ہے۔
’’گاہک اکثر ذاتی تحائف کے لیے منفرد ڈیزائنوں کی فرمائشیں کرتے ہیں، جن میں ہندی، اردو یا انگریزی میں جوڑوں کے نام، قرآنی سورتیں، یا دیوار پر آویزاں کرنے کے لیے بیل بوٹے شامل ہوتے ہیں۔ میں انہیں پھولوں سے مزین کرتا ہوں کیونکہ لوگوں کو یہ پسند آتا ہے،‘‘ وہ پاری کو بتاتے ہیں۔ ’’مجھے گلاب کے پھولوں سے مزین تحفے سب سے زیادہ پسند ہیں۔‘‘
یہ استاد نقاش ایک دس مربع فٹ کے کمرے کے دروازے پر بیٹھے ہیں۔ یہاں وہ دوسرے کاریگروں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ’’سیکھتے وقت یہ کلاکاری (فن) لگتا تھا،‘‘ وہ اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’اور اب بس یہ ایک کام ہے۔‘‘




















